سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 287 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 287

صلى الله سيرة النبي علي 272 جلد 7 کرتے ہیں ۔ میں ان سے احسان کرتا ہوں اور وہ مجھ پر ظلم کرتے ہیں۔ میں اُن کے ساتھ محبت سے پیش آتا ہوں وہ مجھ سے ترش روئی سے پیش آتے ہیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ بات ہے تو پھر تو تمہاری خوش قسمتی ہے کیونکہ خدا کی مدد تمہیں ہمیشہ حاصل رہے گی 315 ۔ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ و خیرات کی نصیحت فرما رہے تھے تو آپ کے ایک صحابی ابوطلحہ انصاری آئے اور اُنہوں نے اپنا ایک باغ صدقہ کے طور پر وقف کر دیا ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بہت خوش ہوئے اور فرمایا بہت عمدہ صدقہ ہے بہت اچھا صدقہ ہے۔ بہت اچھا صدقہ ہے۔ پھر فرمایا لو اب تو تم اسے وقف کر چکے اب میرا دل چاہتا ہے کہ تم اس کو اپنے رشتہ داروں میں بانٹ دو 316 ۔ ایک دفعہ ایک شخص آپ کے پاس آیا اور اُس نے کہا يَا رَسُولَ الله! میں آپ سے ہجرت کی بیعت کرتا ہوں اور میں آپ سے خدا کے رستہ میں جہاد کرنے کی بیعت کرتا ہوں ۔ کیونکہ میں چاہتا ہتا ہوں میرا اخدا خدا مجھ سے خوش ہو جائے ۔ آپ نے فرمایا کیا تمہارے والدین میں سے کوئی زندہ ہے؟ اُس نے کہا دونوں زندہ ہیں ۔ آپ نے فرمایا کیا تم چاہتے ہو کہ خدا تم سے راضی ہو جائے ۔ اس نے کہا ہاں يَا رَسُولَ الله! آپ نے فرمایا پھر بہتر یہ ہے کہ واپس جاؤ اور اپنے والدین کی خدمت کرو اور خوب خدمت کرو 317 ۔ آپ ہمیشہ اس بات کی نصیحت کیا کرتے تھے کہ حسن سلوک میں مذہب کی کوئی شرط نہیں ۔ غریب رشتہ دار خواہ کسی مذہب کے ہوں اُن سے حسن سلوک کرنا نیکی ہے۔ حضرت ابو بکر کی ایک بیوی مشرکہ تھیں ۔ حضرت ابوبکر کی بیٹی اسماء نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ يَا رَسُولَ الله ! کیا میں اُس سے حسن سلوک کرسکتی ہوں؟ آپ نے فرما یا ضرور وہ تیری ماں ہے تو اُس سے حسن سلوک کر 318 ۔ رشتہ دار تو الگ رہے آپ اپنے رشتہ داروں کے رشتہ داروں اور اُن کے