سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 275
سيرة ة النبي علي صلى الله 260 جلد 7 اپنے زور بازو سے ملے ہیں ؟ ایسا ہرگز نہیں تمہاری قومی طاقت اور تمہارے مال سب غرباء ہی کے ذریعہ سے آتے ہیں 281 ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مِسْكِينًا وَامِتُنِي مِسْكِينًا وَاحْشُرُني فِي زُمْرَةِ الْمَسَاكِينِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ 282 یعنی اے اللہ ! مجھے مسکین ہونے کی حالت میں زندہ رکھ، مسکین ہونے کی حالت میں وفات دے اور مساکین کے زمرہ میں ہی قیامت کے دن مجھے اٹھا۔ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بازار میں تشریف لے جارہے تھے تو آپ کے ایک غریب صحابی جو اتفاقی طور پر نہایت بدصورت بھی تھے گرمی کے موسم میں بوجھ اٹھا اٹھا کر ایک طرف سے دوسری طرف منتقل کر رہے تھے۔ ایک طرف اُن کا چہرہ بدصورت تھا تو دوسری طرف گرد و غبار اور پسینہ کی وجہ سے وہ اور بھی بد نما نظر آ رہا تھا۔ عین اُس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بازار میں سے گزرے اور آپ نے اُن کے چہرہ پر افسردگی کی علامتیں دیکھیں ۔ آپ خاموشی سے اُن کے پیچھے چلے گئے اور جیسے بچے آپس میں کھیلتے وقت چوری چھپے پیچھے کی طرف سے جا کر کسی دوست کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیتے اور پھر یہ امید کرتے ہیں کہ وہ اندازہ لگا کر بتائے کہ کس شخص نے اُس کی آنکھیں بند کی ہیں اسی طرح آپ نے اُن کی آنکھوں پر جا کر ہاتھ رکھ دیا۔ اس نے اپنے ہاتھ سے آپ کے بازو اور جسم کو ٹولنا شروع کیا اور سمجھ لیا کہ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ یوں بھی وہ سمجھتا تھا کہ اتنے غریب اتنے بدصورت اور اتنے بد حال آدمی کے ساتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اپنی محبت کا اظہار اور کون کر سکتا ہے ۔ یہ معلوم کر کے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی اس کے ساتھ اظہار محبت کر رہے ہیں اس نے اپنا مٹی آلودہ اور پسینہ سے بھرا ہوا جسم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لباس کے ساتھ ملنا شروع کیا۔ شاید وہ یہ دیکھتا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور آپ کا حوصلہ کتنا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم