سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 262 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 262

سيرة النبي علي صلى الله 247 جلد 7 چھوٹی چیز کو بھی اپنا نہیں سمجھتے تھے وہ اسلامی امارت کو اپنی ملکیت کب قرار دے سکتے تھے۔ آپ کے نزدیک اسلامی امارت خدا کی امانت تھی اور وہ امانت جوں کی توں خدا تعالیٰ ہی کے سپرد ہونی چاہئے تھی۔ پھر وہ جس کو چاہے دوبارہ سونپ دے۔ پس آپ نے اس تجویز کو حقارت سے ٹھکرا دیا اور فرمایا بادشاہت تو الگ رہی خدا خدا ۔ کے حکم کے بغیر میں کھجور کی ایک شاخ بھی تم کو دینے کیلئے تیار نہیں ۔ جب بھی اللہ تعالیٰ کا آپ ذکر فرماتے آپ کی طبیعت میں جوش پیدا ہو جاتا اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ آپ کے جسم پر اندر کی طرف سے بھی اور باہر کی طرف سے بھی گلی طور پر خدا تعالیٰ کی محبت نے قابو پالیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں آپ کو سادگی اس قدر پسند تھی کہ مسجد میں جس پر کوئی فرش نہیں تھا جس پر کوئی کپڑا نہیں تھا آپ نماز پڑھتے اور دوسروں کو پڑھواتے ۔ کئی دفعہ ایسا ہوتا کہ بارش کی وجہ سے چھت ٹپک پڑتی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم گارے اور پانی سے لت پت ہو جاتا مگر آپ برابر عبادت میں مشغول رہتے اور آپ کے دل میں ذرا بھی احساس پیدا نہ ہوتا کہ اپنے جسم اور کپڑوں کی حفاظت کی خاطر آپ اُس وقت کی نماز ملتوی کر دیں یا کسی دوسری جگہ پر جا کر نماز پڑھ لیں 262 ۔ اپنے صحابہ کی عبادتوں کا بھی آپ خیال رکھتے تھے۔ ایک دفعہ حضرت عبداللہ بن عمر کے متعلق جو نہایت ہی نیک اور پاکیزہ خصائل کے آدمی تھے آپ نے فرمایا عبداللہ بن عمر کیسا اچھا آدمی ہوتا اگر تہجد بھی باقاعدہ پڑھتا 263 جب حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے اُس دن سے تہجد کی نماز با قاعدہ شروع کر دی ۔ اسی طرح لکھا ہے کہ ایک دفعہ آپ رات اپنے داماد حضرت علیؓ اور اپنی بیٹی حضرت فاطمہ کے گھر گئے اور فرمایا کیا تہجد پڑھا کرتے ہو؟ (یعنی وہ نماز جو آدھی رات کے قریب اٹھ کر پڑھی جاتی ہے ) حضرت علیؓ نے عرض کیا یا رَسُولَ الله ! پڑھنے کی کوشش تو کرتے ہیں مگر جب خدا تعالیٰ کی منشاء کے ماتحت کسی وقت ہماری