سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 182 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 182

ة سيرة النبي علي صلى الله 167 جلد 7 صلی اللہ علیہ وسلم کے خط کا نجاشی نے کیا تھا اُنہوں نے حبشہ کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھا۔ قیصر جیسے بادشاہ کی حکومت کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے ۔ کسری جیسے بادشاہ کی حکومت کا : کا نام ونشان مٹ گیا۔ چین اور ہندوستان ہندوستان کی شہنشاہیاں تہ و بالا کر دی گئیں مگر حبشہ کی ایک چھوٹی سے حکومت محفوظ رکھی گئی اس لئے کہ اس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی ساتھیوں کے ساتھ ایک احسان اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خط کا ادب اور احترام کیا تھا۔ یہ تو وہ سلوک تھا جو ایک ادنیٰ سے احسان کے بدلہ میں حبشہ والوں سے مسلمانوں نے کیا ۔ مگر عیسائی اقوام نے جو ایک گال پر تھپڑ کھا کر دوسرا بھی پھیر دینے کی مدعی ہیں اپنے ہم مذہب اور ہم طریقہ بادشاہ حبشہ اور اس کی قوم کے ساتھ جو سلوک ان دنوں کیا ہے وہ بھی دنیا کے سامنے ظاہر ہے۔ کس طرح حبشہ کے شہروں کو بمباری سے اڑا دیا گیا اور بادشاہ اور اُس کی محترم ملکہ اور اُس کے بچوں کو اپنا ملک چھوڑ کر غیر ملکوں میں سالہا سال پناہ لینی پڑی ۔ کیا حبشہ سے یہ دوقسم کا سلوک ایک مسلمانوں کا اور ایک عیسائیوں کا اُس قوت قدسیہ کو ثابت نہیں کرتا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں پائی جاتی تھی اور جو آج تک بھی کہ مسلمان بہت کچھ دین سے دور جا چکے ہیں اُن کے خیالات کو نیکی اور احسان مندی کی طرف مائل رکھتی ہے۔ مقوقس شاہ مصر کے نام خط چوتھا خط آپ نے مقوقس بادشاہ مصر کی طرف لکھا تھا اور یہ خط جام معرفت آپ نے بھجوایا۔ اس کا مضمون یہ تھا:۔ حاطب بن ابی بلتعہ کی بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُّحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى الْمَقَوْقَسِ عَظِيمِ الْقِبْطِ سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدى أَمَّا بَعْدُ فَاِنّى اَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ الْإِسْلَامِ أَسْلِمُ تَسْلَمُ يُؤْتِكَ اللهُ اَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ فَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ إِثْمُ الْقِبْطِ وَيَا أَهْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَ بَيْنَكُمْ أَنْ لَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِّنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا