سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 180
ة سيرة النبي علي صلى الله 165 جلد 7 بادشاہ کی مہر ہے۔ جب اس نے خط کھولا تو اس میں یہ لکھا ہوا تھا کہ باذان گورنر یمن کی طرف ایران کے کسری شیرویہ کی طرف سے یہ خط لکھا جاتا ہے۔ میں نے اپنے باپ سابق کسری کو قتل کر دیا ہے اس لئے کہ اس نے ملک میں خونریزی کا دروازہ کھول دیا تھا اور ملک کے شرفاء کو قتل کرتا تھا اور رعایا پر ظلم کرتا تھا۔ جب میرا یہ خط تم تک پہنچے تو فوراً تمام افسروں سے میری اطاعت کا اقرار لو اور اس سے پہلے میرے باپ نے جو عرب کے ایک نبی کی گرفتاری کا حکم تم کو بھجوایا تھا اُس کو منسوخ سمجھو 156 ۔ یہ خط پڑھ کر باذان اتنا متاثر ہوا کہ اُسی وقت وہ اور اس کے کئی ساتھی اسلام لے آئے اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اسلام کی اطلاع دے دی ۔ نجاشی شاہ حبشہ کے نام خط تیرا خط آپ نے نجاشی کے نام لکھا جو عمر و بن امیہ ضمری کے ہاتھ بھجوایا تھا اس کی عبارت یہ تھی :۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُّحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى النَّجَاشِي مَلِكِ الْحَبْشَةَ سَلِمَ أَنْتَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أَحْمَدُ إِلَيْكَ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ - وَأَشْهَدُ أَنَّ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رُوحُ اللَّهِ وَ كَلِمَتُةُ الْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ الْبَسُولَ وَإِنِّي أَدْعُوكَ إِلَى اللَّهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَالْمَوَالَاة عَلَى طَاعَتِهِ وَإِنْ تَتَّبِعَنِي وَتُؤْمِنَ بِالَّذِي جَاءَ نِي فَإِنِّي رَسُولُ اللَّهِ وَإِنِّي اَدْعُوكَ وَ جُنُودَكَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَقَدْ بَلَّغْتُ وَ نَصَحَتُ فَاقْبِلُوا نَصِيحَتِي وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى 157 یعنی اللہ کا نام لے کر جو بے انتہا کرم کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔ محمد رسول اللہ نجاشی حبشہ کے بادشاہ کی طرف یہ خط لکھتے ہیں ۔ اے بادشاہ! تجھ پر خدا کی سلامتی نازل ہو رہی ہے (چونکہ اس بادشاہ نے مسلمانوں کو پناہ دی تھی اس لئے آپ نے اُس کو خبر دی کہ کہ تیرا یہ فعل خدا کے نزدیک مقبول ہوا ہے اور تو خدا را ہے اور تو خدا کی حفاظت