سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 170 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 170

صلى الله سيرة النبي علي 155 جلد 7 لکھ کر ختم ہوا اور اس پر دستخط کر دیئے گئے ۔ اُسی وقت اللہ تعالیٰ نے اس معاہدہ کی صحت کے پرکھنے کا سامان پیدا کر دیا۔ سہیل جو مکہ والوں کی طرف سے معاہدہ کر رہا تھا اس کا اپنا بیٹا رسیوں سے جکڑا ہوا اور را ہوا اور زخموں سے چور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آکر گرا اور کہا يَا رَسُولَ اللہ ! میں دل سے مسلمان ہوں اور اسلام کی وجہ سے میرا باپ مجھے یہ تکلیفیں دے رہا ہے۔ میرا باپ یہاں آیا تو میں موقع پا کر آپ کے پاس پہنچا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابھی جواب نہ دیا تھا کہ اس کے باپ نے کہا معاہدہ ہو چکا ہے اور اس نوجوان کو واپس میرے ساتھ جاتا ہوگا ۔ ابو جندل کی حالت اُس وقت مسلمانوں کے سامنے تھی وہ اپنے ایک بھائی کو جو اپنے باپ کے ہاتھوں سے اس قدر ظلم برداشت کر رہا تھا واپس جاتا دیکھ نہیں سکتے تھے ۔ اُنہوں نے تلواریں میانوں سے نکال لیں اور اس بات کا فیصلہ کر لیا کہ وہ مر جائیں گے مگر اپنے بھائی کو اس تکلیف کے مقام پر پھر جانے نہیں دیں گے ۔ خود ابو جندل نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ يَا رَسُول اللہ ! آپ میری حالت کو دیکھتے ہیں کیا آپ اس بات کو گوارا کریں گے کہ پھر مجھے ان ظالموں کے سپرد کر دیں تا کہ وہ پہلے سے بھی زیادہ مجھ پر پر ظلم توڑیں ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خدا کے رسول معاہدے نہیں توڑا کرتے ۔ ابو جندل ! ہم معاہدہ کر چکے ہیں تم اب صبر سے کام لو اور خدا پر توکل کرو وہ تمہارے لئے اور تمہارے جیسے اور نوجوانوں کے لئے خود ہی بچنے کی کوئی راہ پیدا کر دے گا 148 ۔ اس معاہدے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس مدینہ تشریف لے گئے ۔ جب آپ مدینہ پہنچے تو مکہ کا ایک اور نوجوان ابو بصیر آپ کے پیچھے پیچھے دوڑتا ہوا مدینہ پہنچا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے بھی معاہدہ کے مطابق واپس جانے پر مجبور کیا مگر راستہ میں اُس کی اپنے پکڑنے والوں سے لڑائی ہو گئی اور اپنے ایک محافظ کو قتل کر کے وہ بھاگ گیا ۔ مکہ والوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر