سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 121 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 121

صلى الله سيرة النبي علي صلا 106 جلد 7 صحابہ میں سے سلمان فارسی جو سب سے پہلے فارسی مسلمان تھے ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تمہارے ملک میں ایسے موقع پر کیا کیا کرتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا يَا رَسُولَ الله! جب شہر بے حفاظت ہو اور سپاہی تھوڑے ہوں تو ہمارے ملک کے لوگ خندق کھود کر اُس کے اندر محصور ہو جایا کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی اس تجویز کو پسند فرمایا۔ مدینہ کے ایک طرف ٹیلے تھے دوسری طرف ایسے محلے تھے جن کے مکانات ایک دوسرے سے پیوستہ تھے اور دشمن صرف چند گلیوں میں سے ہو کر آسکتا تھا۔ تیسری طرف کچھ مکانات تھے اور کچھ باغات اور کچھ فاصلہ پر یہودی قبیلہ بنو قریظہ کے قلعے تھے۔ یہ قبیلہ چونکہ مسلمانوں سے اتحاد کا معاہدہ کر چکا تھا اس طرف کو بھی محفوظ سمجھ لیا گیا تھا۔ چوتھی طرف کھلا میدان تھا اور اس طرف سے زیادہ خطرہ ہو سکتا تھا ۔ رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ کیا کہ اس کھلے میدان کی طرف خندق بنا دی جائے تا کہ دشمن اچانک شہر میں داخل نہ ہو سکے ۔ چنانچہ آپ نے دس دس گز کا علاقہ دس دس آدمیوں کے سپر د کھودنے کے لئے کر دیا اور اس طرح قریباً میل لمبی خندق کھدوائی ۔ جب خندق کھودی جا رہی تھی تو زمین میں ایک ایسا پتھر نکلا جوکسی طرح لوگوں سے ٹوٹتا نہیں تھا۔ صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی خبر دی تو آپ وہاں خود تشریف لے گئے ۔ اپنے ہاتھ میں کدال پکڑا اور زور سے اُس پتھر پر مارا۔ کدال کے پڑنے سے اس پتھر میں سے روشنی نکلی اور آپ نے فرمایا اللہ اکبر ۔ پھر دوبارہ آپ نے کدال مارا تو پھر روشنی نکلی پھر آپ نے فرمایا اللهُ أَكْبَرُ ۔ پھر آپ نے تیسری دفعہ کدال مارا اور پھر پتھر سے روشنی نکلی اور ساتھ ہی پتھر ٹوٹ گیا۔ اس موقع پر پھر آپ نے فرمایا اللهُ أَكْبَرُ ۔ صحابہ نے آپ سے پوچھایا رَسُولَ الله ! آپ نے تین دفعہ اللهُ اکبر کیوں فرمایا ؟ آپ نے فرمایا پتھر پر کدال پڑنے سے تین دفعہ جو روشنی نکلی تینوں دفعہ خدا نے مجھے اسلام کی آئندہ ترقیات کا نقشہ دکھایا۔ پہلی دفعہ کی روشنی میں مملکت قیصر کے شام کے محلات دکھائے