سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 323
سیرت المہدی 323 حصہ پنجم 1592 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔امتہ الرحمان بنت قاضی ضیاء الدین صاحب مرحوم نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضور <mark>علی</mark>ہ الصلوۃ والسلام حضرت اُم المومنین <mark>علی</mark>ہا السلام کوفر مار ہے تھے کہ جو کام خدا تعالیٰ خود بخود کرے اس کا ذمے دار بھی خدا تعالیٰ خود بخود ہو جاتا ہے۔انسان کی خواہش اس کے مطابق چاہئے اور دعا ئیں بھی کرے۔جب انسان کی کوشش اور خواہش کے مطابق وہ ہو بھی جائے تو اس کی ذمہ واری وہ انسان پر ڈال دیتا ہے۔اس واسطے سب کام خدا کے اُسی کے ذمے ڈال دینے چاہئیں۔1593) بسم اللہ الرحمن الرحیم۔امتہ الرحمان بنت قاضی ضیاء الدین صاحب مرحوم نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضور <mark>علی</mark>ہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ انسان کو چاہئے کہ کسی کی نسبت کینہ اپنے دل میں نہ رکھے اور مواد نہ جمائے رکھے کیونکہ اس کی وجہ سے بڑے بڑے نقصان اور مصیبتوں کا سا منا ہوتا ہے جب ایک دوسرے کی بابت کوئی دل میں رنج ہو تو فور امل کر دلوں کو صاف کر لینا چاہئے اور مثال بیان فرمائی جب انسان کو زخم ہو اس میں مواد پیپ بھرا پڑا ہو اور نکالا نہ جائے تو وہ گندہ مواد انسان کے بہت سے حصہ بدن کو خراب کر دیتا ہے۔اسی طرح دل کے مواد کی بات ہے۔اگر ایک دوسرے کے رنج کو دل میں رکھا جائے تو زخم کے مواد کی طرح بُری حالت پیدا ہوتی ہے جس کی تلافی مشکل ہوتی ہے۔1595 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔امۃ الرحمان بنت قاضی ضیاء الدین صاحب مرحوم نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود <mark>علی</mark>ہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ جو سچے دل سے اخلاص رکھتا ہوتا تھا اور حضور کو معصوم جانتا ہوتا تھا۔حضور بھی اس کی خطاؤں پر چشم پوشی سے کام لیا کرتے تھے۔اگر چہ وہ کوئی ناپسندیدہ کام کرتا لیکن حضور اس کے اخلاص کی وجہ سے باز پرس نہیں کیا کرتے تھے۔1596 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔امۃ الرحمان بنت قاضی ضیاء الدین صاحب مرحوم نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود <mark>علی</mark>ہ السلام کو مرزا فضل احمد صاحب مرحوم کی وفات کی خبر آئی تو مغرب کا وقت تھا اور حضرت اقدس <mark>علی</mark>ہ السلام اس وقت سے لے کر قریباً عشاء کی نماز تک ٹہلتے رہے۔حضور <mark>علی</mark>ہ السلام جب ٹہلتے تو چہرہ مبارک حضور کا اس طرح ہوتا کہ گویا بشرہ مبارک سے چمک ظاہر ہوتی ہے۔☆☆☆