سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 691
سیرت المہدی 691 حصہ سوم کشمیر سے واپس آیا تھا۔کچھ دنوں کے بعد نواب یا ر قند نے اپنے علاج کے و<mark>اس</mark>طے مر<mark>اس</mark>لہ بھیجا تھا اور میں چند آدمی ہمراہ لے کر وہاں پہنچا۔اور میرے <mark>اس</mark>تقبال کے لئے شاہی حکیم اور چند معزز عہد یدار آئے اور میں نے <mark>اس</mark>لامی طریق کے مطابق نواب صاحب کو السلام علیکم کہا اور مصافحہ کیا۔اور اپنی رہائش کا بندوبست ایک باغ میں کرایا۔شاہی حکماء نے میرا امتحان کرنے کے لئے ایک سوال مجھ سے کیا کہ ایک بچہ ماں کے شکم میں کس طرح چھان<mark>گا</mark> ہو جاتا ہے۔میں نے <mark>اس</mark>ی وقت جملہ حکماء کو کہا۔کہ ایک سوال مجھ سے بھی حل نہیں ہو سکا۔شاید آپ میں سے کوئی حل کر سکے۔کہ کیا پہلے مرغی پیدا ہوئی یا پہلے انڈا پیدا ہوا۔<mark>اس</mark> پر جملہ حکماء خاموش ہو گئے۔اگلے دن صبح کو میں نے مریض کو دیکھا اور بیماری کی تشخیص کی۔اور علاج شروع کرنے سے پہلے چند شرائط نواب صاحب سے منظور کروائیں۔کہ اگر کوئی غلیظ چیز یا پاک چیز جس طریق پر <mark>اس</mark>تعمال کراؤں۔نواب صاحب کو کرنا ہو<mark>گا</mark> اور کسی حکیم یا متعلقین میں سے کسی کو ناراض ہونے اور اعتراض کرنے کا حق حاصل نہ ہو<mark>گا</mark>۔نسخہ علاج ذیل میں درج ہے۔سترمن بھینس کا گوبر اور کچھ لکڑی حرم سرائے کے صحن میں جمع کرائی جائے۔اور مستورات کو پردہ کا حکم دیا جائے۔چنانچہ نواب صاحب کو برہنہ کھڑا کیا گیا اور گوبر کا چبوترہ ان کے گردا گرد کیا گیا۔سر کے اُوپر ایک ڈھکنا رکھا گیا۔آنکھیں نتھنے اور منہ کھلا رہا۔گوبر کے ارد گرد باہر کی طرف لکڑی چنائی گئی اور ان کو آگ ل<mark>گا</mark> دی گئی۔نواب صاحب روتے اور چلاتے رہے۔جب لکڑیاں جل گئیں مزدوروں نے ان کو دور پھینکا۔اور گو بر بھی ہٹا دیا گیا۔جب چھ چھ انچ تک گوبر ان کے گر درہا۔تو میں نے حکماء کو ایک لائن میں کھڑا کر دیا۔وزراء اور <mark>اس</mark> کے متعلقین کی موجودگی میں میں نے وہ گوبر انکے جسم سے خودا تارا۔اور ان دوستوں کو دکھلایا مری ہوئی جوئیں <mark>اس</mark> گوبر کے ساتھ تھیں۔اور واپسی پر نواب صاحب نے ایک حقہ چاندی کا۔اور ایک تھال سونے کا اور ایک لوٹا سونے کا اور ایک دُھہ۔ایک لنگی۔ایک یارقندی ٹو اور چار بدرے نقد روپیہ بطور تحفہ کے نذر کے دیئے۔میں نے <mark>اس</mark> وقت نواب سے سوال کیا کہ کیا یہ اشیاء میری حکمت کے عوض ہیں یا کہ بطور تحفہ۔نواب صاحب نے وزیروں کی طرف اشارہ کیا کہ معقول جواب دیں۔کچھ مدت خاموش رہنے کے بعد بطور تحفہ بتلایا۔میں نے روپے کے بدرے واپس کر دیئے۔اور باقی اشیاء جو تحفہ کے طور پر تھیں لے