سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 653
سیرت المہدی 653 حصہ سوم کچھ فیصلہ نہ ہو سکا۔مگر مجھے تار دے کر گوجرانوالہ سے بُ<mark>لا</mark>یا۔جب میں وہاں پہنچا۔تو میں نے دیکھا کہ رات کے گیارہ بجے وہ دعا میں مشغول ہیں۔میرے جاتے ہی انہوں نے توفی کا مسئلہ پیش کیا اور میں نے اس کا جواب دیا۔میں نے کہا۔کہ جس لفظ کی ع<mark>لا</mark>ء کو کچھ سمجھ نہیں آتی۔وہ کسی جاہل سے پوچھ لینا چاہئے گاؤں کا پٹواری اور چوکیدار اور تھانے کا <mark>من</mark>شی عموماً جاہل ہوتے ہیں۔ان سے پوچھنا چاہئے۔کہ وہ جو روز مرہ متوفی وغیرہ لکھتے ہیں۔تو کیا ان کا مطلب مرنے والے کے متعلق یہ ہوتا ہے۔کہ وہ آسمان پر چڑھ گیا یا یہ کہ مرکز زمین میں دفن <mark>ہوا</mark>۔جب متوفی سے مراد آپ مرا <mark>ہوا</mark> شخص سمجھتے ہیں تو کیا حضرت عیسیٰ علیہ الس<mark>لا</mark>م کے لئے اس سے زمین میں دفن ہونا مراد نہیں۔تو جواب میں انہوں نے کہا کہ بھائی ہمیں تو مرزا صاحب کے پاس قادیان لے چلو۔اور بیعت کرا دو۔اس پر میں اپنے بھائی اور مولوی صاحب موصوف اور تین اور دوستوں کو لے کر حضرت مسیح موعود علیہ السّ<mark>لا</mark>م کے پاس حاضر <mark>ہوا</mark>۔اور ان سب کی بیعت کرادی۔اور دعا کے لئے خدمت اقدس میں عرض کیا۔پھر بعد میں جب لوگ نماز پڑھ کر چلے گئے تو ایک پٹھان نے حضرت مولوی نور الدین صاحب کی خدمت میں عرض کیا۔کہ متواتر چھ ماہ میں نے آپ سے نقرس کا ع<mark>لا</mark>ج <mark>کرو</mark>ایا ہے۔مگر کچھ بھی آرام نہیں آیا۔مگر <mark>آج</mark> یہ واقعہ <mark>ہوا</mark>۔کہ جب حضور کھڑکی سے باہر نکلے۔تو سب لوگ استقبال کے لئے کھڑے ہو گئے مگر میں کچھ دیر سے اُٹھا۔تو اتفاقاً حضور کا پاؤں میرے پاؤں پر پڑ گیا۔اس وقت میں نے محسوس کیا۔کہ میری نقرس کی بیماری اچھی ہو گئی ہے۔جب نماز کے بعد حضور اندر تشریف لے جانے لگے۔تو میں نے عرض کیا۔کہ حضور ہے تو بے ادبی کی بات۔مگر آپ میرے پاؤں پر پاؤں رکھ کر چلے جائیں۔حضور نے مری درخواست پر ایسا کر دیا۔اور اب مجھے اللہ تعالیٰ کے فضل سے بالکل صحت ہے۔اس پر مولوی نور الدین صاحب نے جواب میں فرمایا۔کہ بھائی میں تو معمولی حکیم ہی ہوں۔لیکن وہ تو خدا کے رسول ہیں۔ان کے ساتھ میں کیسے مقابلہ کر سکتا ہوں میں نے تو معمولی دواہی دینا تھی۔