سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 650
سیرت المہدی 650 حصہ سوم <mark>گا</mark>۔بہ جلد وئے <mark>اس</mark> وفاداری کے ہم اپنی طرف سے آں عزیز القدر کو یہ سند بطور خوشنودی عطا فرماتے ہیں۔المرقوم یکم اگست ۵۷ء خاکسار عرض کرتا ہے۔کہ مرزا غلام قادر صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حقیقی بھائی تھے جو حضرت صاحب سے چند سال بڑے تھے اور ۱۸۸۳ء میں فوت ہوئے۔دستخط بحروف انگریزی جنرل نکلسن بهادر (۳) تہور پناہ شجاعت دست<mark>گا</mark>ه مرزا غلام قادر خلف مرزا غلام مرتضیٰ رئیس قادیان۔چونکہ آپ نے اور آپ کے خاندان نے بمقابلہ باغیان بداندیش و مفسدان بدخواه سرکار انگریزی غدر ۱۸۵۷ء میں بمقام ترموں گھاٹ و میر تھل وغیرہ نہایت دلد ہی اور جاں نثاری سے مدد دی ہے۔اور اپنے آپ کو سر کا ر انگریزی کا پورا وفادار ثابت کیا ہے۔اور اپنے طور پر پچ<mark>اس</mark> سوار معہ گھوڑوں کے بھی سرکار کی مدداور مفسدوں کی سرکوبی کے و<mark>اس</mark>طے امداداً دیئے ہیں۔<mark>اس</mark> و<mark>اس</mark>طے حضور ایں جناب کی طرف سے بنظر آپ کی وفاداری اور بہادری کے پروانہ ہذا سنداً آپ کو دے کر لکھا جاتا ہے کہ <mark>اس</mark> کو اپنے پ<mark>اس</mark> رکھو۔سرکار انگریزی اور <mark>اس</mark> کے افسران کو ہمیشہ آپ کی خدمات اور ان حقوق اور جاں شاری پر جو آپ نے سرکار انگریزی کے و<mark>اس</mark>طے ظاہر کئے ہیں۔احسن طور پر توجہ اور خیال رہے <mark>گا</mark>۔اور ہم بھی بعد سر کو بی وانتشار مفسدان آپ کے خاندان کی بہتری کے و<mark>اس</mark>طے کوشش کریں گے۔اور ہم نے مسٹر نسبٹ صاحب ڈپٹی کمشنر گورد<mark>اس</mark>پور کو بھی آپ کی خدمات کی طرف توجہ دلا دی ہے۔فقط المرقوم اگست ۱۸۵۷ء خاکسار عرض کرتا ہے۔کہ <mark>اس</mark> خط کے ایک ماہ بعد یعنی ماہ ستمبر ۱۸۵۷ء میں جنرل نکلسن بہا در دہلی کی فتح میں مارے گئے۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ خطوط اور سندات مجھے جس صورت میں ملی ہیں۔میں نے <mark>اس</mark>ی صورت میں درج کر دی ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ <mark>اس</mark> زمانہ میں <mark>اس</mark> قسم کے خطوط یا سندات فارسی یا اردو میں لکھے جاتے تھے۔اور ممکن ہے کہ کوئی انگریزی نقل دفتر میں رہتی ہو۔اور اصل بھجوادیا جاتا ہو۔واللہ اعلم