سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 567
سیرت المہدی 567 حصہ سوم 599 بسم اللہ الرح<mark>من</mark> الرحیم <mark>من</mark>شی عبدالعزیز صاحب اوجلوی نے مجھ سے بیان کیا۔کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الس<mark>لا</mark>م مسجد مبارک میں مع احباب کے تشریف رکھتے تھے۔میں باہر سے آیا اور الس<mark>لا</mark>م علیکم عرض کیا۔حضور سے مصافحہ کرنے کی بہت خواہش <mark>پیدا</mark> ہوئی۔لیکن چونکہ مسجد بھری ہوئی تھی اور معزز احباب راستہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔میں نے آگے جانا <mark>من</mark>اسب نہ سمجھا۔ابھی میں کھڑا ہی تھا اور بیٹھنے کا ارادہ کر رہا تھا کہ حضور نے میری طرف دیکھ کر فرمایا۔میاں عبدالعزیز آؤ۔مصافحہ تو کرلو۔چنانچہ دوستوں نے مجھے راستہ دیدیا اور میں نے جا کر مصافحہ کر لیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کو اپنے مخلص اصحاب کی انتہائی دلداری مد نظر رہتی تھی۔اور آپ کا دل ان کی محبت سے معمور رہتا تھا۔اس موقعہ پر حضرت صاحب نے محسوس کر لیا ہوگا کہ میاں عبدالعزیز صاحب مصافحہ کی خواہش رکھتے ہیں مگر راستہ بند ہونے کی وجہ سے مجبور ہیں۔اس لئے آپ نے <mark><mark>آواز</mark></mark> دے کر پاس ب<mark>لا</mark> لیا۔600 بسم الله الرح<mark>من</mark> الرحیم مینشی عبد العزیز صاحب اوجلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا۔کہ ایک دفعہ کرم دین جہلمی کے مقدمہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الس<mark>لا</mark>م گورداسپور تشریف <mark>لا</mark>ئے ہوئے تھے۔کچہری کے وقت حضور احاطہ کچہری میں ایک جا<mark>من</mark> کے درخت کے نیچے کپڑا بچھا کر مع خدام تشریف فرما تھے۔حضور کے لئے دودھ کا ایک گ<mark>لا</mark>س <mark>لا</mark>یا گیا۔چونکہ حضور کا پس خوردہ پینے کے لئے سب دوست جدوجہد کیا کرتے تھے۔میرے دل میں اس وقت خیال آیا۔کہ میں ایک غریب اور کمزور آدمی ہوں۔اتنے بڑے بڑے آدمیوں میں مجھے کس طرح حضور کا پس خوردہ مل سکتا ہے۔اس لئے میں ایک طرف کھڑا ہو گیا۔حضور نے جب نصف گ<mark>لا</mark>س نوش فرمالیا تو بقیہ میرے ہاتھ میں دے کر فرمایا۔میاں عبدالعزیز بیٹھ کر اچھی طرح سے پی لو۔601 بسم اللہ الرح<mark>من</mark> الرحیم۔خواجہ عبد الرح<mark>من</mark> صاحب ساکن کشمیر نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ مجھے میرے والد صاحب نے بتایا کہ جب حضور علیہ الس<mark>لا</mark>م نماز کے وقت تشہد میں بیٹھتے تو تشہد پڑھنے کی