سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 530 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 530

سیرت المہدی 530 حصہ سوم اور ب<mark>لا</mark> گفتی روپیہ دے دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ اس وقت روپیہ لے لو، نہ معلوم پھر کب ہاتھ میں آئے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حافظ حامد علی صاحب مرحوم حضرت صاحب کے خاص خادم تھے جنہیں حضرت صاحب گھر کی ضروریات اور مہمانوں وغیرہ کی مہمانی کے لئے روپیہ دیا کرتے تھے۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس روایت اور روایت نمبر ۵۲۹ میں جو تضاد نظر آتا ہے یہ حقیقی تضاد نہیں ہے بلکہ اپنے اپنے موقعہ کے لحاظ سے دونوں روایتیں درست ہیں اور حافظ حامد علی صاحب نے جو بات بیان کی ہے یہ غالباً خاص خاص لوگوں کے متعلق یا خاص حا<mark>لا</mark>ت میں پیش آتی ہوگی۔531) بسم اللہ الرح<mark>من</mark> الرحیم۔میر عنایت علی شاہ صاحب لودھیانوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جب اول ہی اول حضور اقدس لدھیانہ تشریف <mark>لا</mark>ئے تھے تو صرف تین آدمی ہمراہ تھے۔میاں جان محمد صاحب و حافظ حامد علی صاحب اور <mark>لا</mark>لہ م<mark>لا</mark> وامل صاحب جو کہ اب تک زندہ موجود ہے غالباً تین روز حضور لدھیانہ میں ٹھہرے۔ایک روز حضور بہت سے احباب کے ساتھ سیر کو تشریف لے گئے خاکسار بھی ہمراہ تھا راستہ میں عصر کی نماز کا وقت آ گیا۔اس وقت <mark>لا</mark>لہ م<mark>لا</mark> وامل نے حضور سے کہا کہ نماز پڑھ لی جائے آنحضور نے وہیں پر مولوی عبد القادر صاحب لدھیانوی کی اقتداء میں نماز ادا کی اور م<mark>لا</mark> وامل ایک پاس کے چری کے کھیت کی طرف چ<mark>لا</mark> گیا وَ اللهُ اَعْلَمُ وہاں نماز پڑھی ہو۔نیز اس وقت <mark>لا</mark>لہ م<mark>لا</mark> وامل کا یہ حال تھا کہ اگر اُن کو کہا جاتا کہ آپ سونے کے وقت چار پائی لے لیا کریں تو وہ جواب دیتے مجھے کچھ نہ کہو۔حضرت کے قدموں میں نیچے زمین پر ہی لیٹنے دو۔حضرت اقدس عموماً صبح کی نماز خود ہی پڑھایا کرتے تھے۔6532 بسم اللہ الرح<mark>من</mark> الرحیم۔میاں محمد خان صاحب ساکن گل <mark>من</mark>ح ضلع گورداسپور نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ابتداء میں حضرت صاحب مسجد مبارک میں خود نماز پڑھایا کرتے تھے۔ایک آدمی آپ کے دائیں طرف کھڑا ہوتا تھا اور پیچھے صرف چار پانچ مقتدی کھڑے ہو سکتے تھے۔اور جو آدمی پہلے نماز کے وقت دائیں جانب آبیٹھتا۔اس کو عرض کرنے کا موقعہ مل جاتا۔ایک روز میں بھی سب سے اوّل وضو کر کے مسجد مبارک میں دائیں جانب جا بیٹھا پھر حضور علیہ الس<mark>لا</mark>م تشریف لے آئے اور میرے قریب آکر