سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 523 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 523

سیرت المہدی 523 حصہ سوم المسیح الثانی کو بھی کبھی کبھی اس کی شکایت ہو جاتی ہے۔513 بسم اللہ الرح<mark>من</mark> الرحیم۔حضرت والدہ صاحبہ نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت صاحب کے ٹخنے کے پاس پھوڑا ہو گیا تھا۔جس پر حضرت صاحب نے اس پر سکہ یعنی سیسہ کی نکیا بندھوائی تھی جس سے آرام آ گیا۔514 بسم اللہ الرح<mark>من</mark> الرحیم۔مکرم <mark>من</mark>شی ظفر احمد صاحب کپورتھلہ نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ مولوی محمد احسن صاحب کے ساتھ کوئی امروہہ کا آدمی قادیان آیا۔اس کے کان بند تھے۔اور نلکی کی مدد سے بہت اونچا سنتا تھا۔اس نے حضرت صاحب کو دعا کے لئے کہا۔حضور نے فرمایا۔ہم دُعا کریں گے۔اللہ تعالے سب چیزوں پر قادر ہے پھر اللہ نے اپنا فضل کیا کہ اس نے حضور علیہ الس<mark>لا</mark>م کی ساری تقریر سن لی۔جس پر وہ خوشی کے جوش میں کود پڑا۔اور نلکی تو ڑ کر پھینک دی۔515 بسم اللہ الرح<mark>من</mark> الرحیم <mark>من</mark>شی ظفر احمد صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ آتھم کے مباحثہ میں آتھم نے ایک دفعہ ایسے سوا<mark>لا</mark>ت کئے کہ ہمارے بعض احباب گھبرا گئے کہ ان کا جواب فوراً نہیں دیا جا سکتا اور بعض احباب نے ایک کمیٹی کی اور قرآن شریف اور انجیل کے حوالہ سے چاہا کہ حضرت صاحب کو امداد د ہیں۔میں نے مولوی عبدالکریم صاحب کو مزاحاً کہا کہ کیا بوتیں بھی مشورہ سے <mark>ہوا</mark> کرتی ہیں۔اتنے میں حضرت صاحب تشریف لے آئے اور حضور کچھ باتیں کر کے جانے لگے تو مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم نے کھڑے ہو کر عرض کی کہ اگر کل کے جواب کے لئے مشورہ کر لیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔اس پر حضرت صاحب نے ہنستے ہوئے فرمایا کہ ” آپ کی دُعا کافی ہے۔اور فوراً تشریف لے گئے۔خاکسار عرض کرتا ہے۔کہ ا<mark><mark>نبی</mark></mark>اء اکثر امور میں مشورہ لیتے ہیں۔اور ان سے بڑھ کر کوئی مشورہ نہیں لیتا مگر بعض ایسے اوقات ہوتے ہیں کہ جن میں وہ دوسرے واسطوں کو چھوڑ کر محض خدا کی امداد پر بھروسہ کرنا پسند کرتے ہیں۔ع<mark>لا</mark>وہ ازیں مشورہ کا بھی موقعہ اور حل ہوتا ہے اور کسی دش<mark>من</mark> کی طرف سے علمی اعتراض ہونے پر ا<mark><mark>نبی</mark></mark>اء عموماً محض خدا کی نصرت پر بھروسہ کرتے ہیں۔چنانچہ اس موقعہ پر خدا نے عیسائیوں کو ذلیل کیا۔