سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 403
سیرت المہدی 403 حصہ دوم ایسا کام ہے کہ میرے خیال میں خدا تعالیٰ کے راضی کرنے کے لئے نہایت اقرب طریق ہے سوشکر کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو توفیق دے رکھی ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ ہمیشہ آپ <mark>اس</mark> راہ میں سرگرم ہیں۔ان عملوں کو اللہ تعالیٰ دیکھتا ہے وہ جزا دی<mark>گا</mark>۔ہاں م<mark>اس</mark>وائے <mark>اس</mark> کے دعا اور <mark>اس</mark>تغفار میں بھی مشغول رہنا چاہیے زیادہ خیریت ہے۔“ والسلام۔خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان -۲۴ اپریل ۱۸۹۸ء سود کے اشاعت دین میں خرچ کرنے سے میرا یہ مطلب نہیں ہے کہ کوئی انسان عمداً اپنے تئیں <mark>اس</mark> کام میں ڈالے۔بلکہ مطلب یہ ہے کہ اگر کسی مجبوری سے جیسا کہ آپ کو پیش ہے یا کسی اتفاق سے کوئی شخص سود کے روپیہ کا وارث ہو جائے تو وہ روپیہ <mark>اس</mark> طرح پر جیسا کہ میں نے بیان ( کیا ہے) خرچ ہوسکتا ہے۔اور <mark>اس</mark> کے ساتھ ثواب کا بھی مستحق ہو<mark>گا</mark>۔غ ، خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے <mark>اس</mark> خط سے جسے میں خوب اچھی طرح پہچانتا ہوں کہ وہ آپ ہی کا ہے مندرجہ ذیل اصولی باتیں پریت لگتی ہیں۔(۱) سودی آمدنی کا روپیہ سود کی ادائیگی پر خرچ کیا ج<mark>اس</mark>کتا ہے۔بلکہ اگر حالات کی مجبوری پیدا ہو جائے اور سود دینا پڑ جاوے تو <mark>اس</mark> کے و<mark>اس</mark>طے یہی انتظام احسن ہے کہ سودی آمد کا روپیہ سود کی ادائیگی میں خرچ کیا جاوے۔مسلمان تاجر جو <mark>آج</mark> کل گرد و پیش کے حالات کی مجبوری کی وجہ سے سود سے بچ نہ سکتے ہوں وہ ایسا انتظام کر سکتے ہیں۔(۲) سود کی آمد کا روپیہ باقی روپے سے الگ حساب کر کے جمع کرنا چاہیے تا کہ دوسرے روپے کے حساب کے ساتھ مخلوط نہ ہو اور <mark>اس</mark> کا مصرف الگ ممتاز رکھا جا سکے۔(۳) سود کا روپیہ کسی صورت میں بھی ذاتی مصارف میں خرچ نہیں کیا ج<mark>اس</mark>کتا اور نہ کسی دوسرے کو <mark>اس</mark> نیت سے دیا جا سکتا ہے کہ وہ <mark>اس</mark>ے اپنے ذاتی مصارف میں خرچ کرے۔(۴) سودی آمد کا روپیہ ایسے دینی کام میں خرچ ہو سکتا ہے جس میں کسی شخص کا ذاتی خرچ شامل نہ ہو مثلاً