سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 395 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 395

سیرت المہدی 395 حصہ دوم غصہ سے فرمایا کہ نہیں یہ بہت ناواجب بات ہوئی ہے۔جب خدا کا رسول آپ لوگوں کے اندر موجود ہے تو آپ کو خود بخود <mark>اپنی</mark> رائے سے کوئی فعل نہیں کرنا چاہیے تھا بلکہ مجھ سے پوچھنا چاہیے تھا وغیرہ ذلک۔حضرت صاحب کی اس تقریر پر حضرت مولوی عبدالکریم صاحب رو پڑے اور حضرت صاحب سے معافی مانگی اور عرض کیا کہ حضور میرے لئے دعا فرمائیں اور اس کے بعد مارنے والوں نے ف<mark>لا</mark>سفر سے معافی مانگ کر اسے راضی کیا اور اسے دودھ وغیرہ پ<mark>لا</mark>یا۔438 بسم اللہ الرح<mark>من</mark> الرحیم۔میاں فخر الدین صاحب ملتانی ثم قادیانی نے مجھ سے بیان کیا کہ جب ۱۹۰۷ء میں حضرت بیوی صاحبہ <mark>لا</mark>ہور تشریف لے گئیں تو ان کی واپسی کی اط<mark>لا</mark>ع آنے پر حضرت مسیح موعود علیہ الس<mark>لا</mark>م ان کو <mark>لا</mark>نے کیلئے بٹالہ تک تشریف لے گئے۔میں نے بھی مولوی سید محمد احسن صاحب مرحوم کے واسطے سے حضرت صاحب سے آپ کے ساتھ جانے کی اجازت حاصل کی اور حضرت صاحب نے اجازت عطا فرمائی مگر مولوی صاحب سے فرمایا کہ فخر الدین سے کہہ دیں کہ اور کسی کو خبر نہ کرے اور خاموشی سے ساتھ چ<mark>لا</mark> چلے ، بعض اور لوگ بھی حضرت صاحب کے ساتھ ہم رکاب ہوئے۔حضرت صاحب پالکی میں بیٹھ کر روانہ ہوئے جسے آٹھ کہار باری باری اُٹھاتے تھے۔قادیان سے نکلتے ہی حضرت صاحب نے قرآن شریف کھول کر اپنے سا<mark>من</mark>ے رکھ لیا اور سورہ فاتحہ کی ت<mark>لا</mark>وت شروع فرمائی اور میں غور کے ساتھ دیکھتا گیا کہ بٹالہ تک حضرت صاحب سورۃ فاتحہ ہی پڑھتے چلے گئے اور دوسر اور ق نہیں اُلٹا۔راستہ میں ایک دفعہ نہر پر حضرت صاحب نے اتر کر پیشاب کیا اور پھر وضو کر کے پالکی میں بیٹھ گئے اور اسکے بعد پھر اسی طرح سورۃ فاتحہ کی ت<mark>لا</mark>وت میں مصروف ہو گئے۔بٹالہ پہنچ کر حضرت صاحب نے سب خدام کی معیت میں کھانا کھایا اور پھر سٹیشن پر تشریف لے گئے جب حضرت صاحب سٹیشن پر پہنچے تو گاڑی آچکی تھی اور حضرت بیوی صاحبہ گاڑی سے اتر کر آئی ہوئی تھیں اور حضرت صاحب کو ادھر اُدھر دیکھ رہی تھیں۔حضرت صاحب بھی بیوی صاحبہ کو دیکھتے پھرتے تھے کہ اتنے میں لوگوں کے مجمع میں حضرت بیوی صاحبہ کی نظر حضرت صاحب پر پڑ گئی اور انہوں نے ”محمود کے ابا کہہ کر حضرت صاحب کو <mark>اپنی</mark> طرف متوجہ کیا اور پھر حضرت صاحب نے سٹیشن پر