سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 386
سیرت المہدی 386 حصہ دوم سکتا۔پس حضرت صاحب کا مطلب صرف یہ ہے کہ ایک دنیا دار شخص اپنے رنگ میں خوش رہتا ہے کیونکہ اس کی جسمانی خواہشات بالکل آزاد ہوتی ہیں۔428 بسم اللہ الرح<mark>من</mark> الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مولوی عبداللہ صاحب سنوری مجھ سے بیان کرتے تھے کہ حضرت مسیح موعود فرماتے تھے اور میں نے خود بھی حضرت مسیح موعود علیہ الس<mark>لا</mark>م کو یہ بیان فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن ایک شخص خدا تعالیٰ کے سا<mark>من</mark>ے پیش ہوگا اور اللہ تعالی اس سے پوچھے گا کہ اگر تو نے دنیا میں کوئی نیک عمل کیا ہے تو بیان کر اور وہ جواب دیگا اے میرے خدا میں نے کبھی کوئی نیک عمل نہیں کیا۔خدا فرمائے گا کہ اچھی طرح یاد کر کے اپنا کوئی ایک نیک عمل ہی بیان کر دے۔وہ جواب دیا کہ مجھے اپنا کوئی ایک نیک عمل بھی یاد نہیں ہے۔خدا فرمائے گا اچھا یہ بتا کہ کیا تو نے کبھی میرے کسی نیک بندے کی صحبت اُٹھائی ہے؟ وہ کہے گا اے میرے خدا میں کبھی تیرے کسی نیک بندے کی صحبت میں نہیں بیٹھا۔خدا فرمائے گا اچھا یہ بتا کہ کیا کبھی تو نے میرے کسی نیک بندے کو دیکھا ہے؟ وہ جواب دیگا کہ اے میرے خدا مجھے زیادہ شر<mark>من</mark>دہ نہ کر میں نے کبھی تیرے کسی نیک بندے کو دیکھا بھی نہیں۔خدا فرمائیگا تیرے گاؤں کے دوسرے کنارے پر میرا ایک نیک بندہ رہتا تھا کیا ف<mark>لا</mark>ں دن ف<mark>لا</mark>ں وقت جب کہ تو ف<mark>لا</mark>ں گلی میں سے جار ہا تھا اور وہ میرا بندہ سا<mark>من</mark>ے سے آتا تھا تیری نظر اس پر نہیں پڑی ؟ وہ جواب دیگا ہاں ہاں میرے خدا اب مجھے یاد آیا اس دن میں نے بے شک تیرے اس بندے کو دیکھا تھا مگراے میرے خدا ! تو جانتا ہے کہ صرف ایک دفعہ میری نظر اس پر پڑی اور پھر میں اس کے پاس سے نکل کر آگے گذر گیا ، خدا فرمائے گا۔میرے بندے جا میں نے تجھے اس نظر کی وجہ سے بخشا۔جا اور میری جنت میں داخل ہو جا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الس<mark>لا</mark>م یہ مثال خدا کے رحم اور بخشش کو ظاہر کرنے کیلئے بیان فرماتے تھے۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس مثال کا یہ مطلب نہیں سمجھنا چاہیے کہ انسان خواہ اس دنیا میں کیسی حالت میں رہا ہو اور کیسی بداعمالی میں اس کی زندگی گزرگئی ہو وہ محض اس قسم کی وجہ کی بنا پر بخش دیا جاوے گا بلکہ <mark>من</mark>شاء یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی انسان دنیا میں ایسی حالت میں رہا ہے کہ اس کی فطرت کے اندر نیکی اور