سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 371
سیرت المہدی 371 حصہ دوم موسم اچھا ہو جاتا ہے۔یہ ایک صرف نسبتی امر ہے اور اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ گویا حضرت مسیح موعود علیہ الس<mark>لا</mark>م کے زمانہ میں خدا کا قانون قدرت بدل گیا تھا اور گرمیوں کا موسم سرما میں تبدیل ہو گیا تھا بلکہ صرف یہ مراد ہے کہ خدا کا کوئی ایسا فضل تھا کہ لگا تار شدت کی گرمی نہیں پڑتی تھی۔اور بر وقت بارشوں اور بادلوں اور ٹھنڈی <mark>ہوا</mark>ؤں سے عموماً موسم اچھار ہتا تھا۔ورنہ ویسے تو گرما گرما ہی تھا اور سر ما سر ما ہی۔اور یہ بات عام قانون نیچر کے خ<mark>لا</mark>ف نہیں ہے کیونکہ علم جغرافیہ اور نیز تجربہ اور مشاہدہ سے یہ بات ثابت ہے کہ بارشوں اور خنک <mark>ہوا</mark>ؤں کے زمانہ میں ایک حد تک اتار چڑھاؤ ہوتا رہتا ہے اور ہر زمانہ میں بالکل ایک سا حال نہیں رہتا۔بلکہ کبھی بارشوں اور خنک <mark>ہوا</mark>ؤں کی قلت اور گرمی کی شدت ہو جاتی ہے اور کبھی ہر وقت بارشوں اور بادلوں اور خنک <mark>ہوا</mark>ؤں سے موسم میں زیادہ گرمی <mark>پیدا</mark> نہیں ہوتی چنانچہ گورن<mark>من</mark>ٹ کے محکمہ آب و <mark>ہوا</mark> کے مشاہدات بھی اسی پر شاہد ہیں۔پس اگر حضرت مسیح موعود علیہ الس<mark>لا</mark>م کے زمانہ میں خدا کی طرف سے ایسے سامان جمع ہو گئے ہوں کہ جن کے نتیجہ میں موسم عموماً اچھا رہتا ہو تو یہ کوئی تعجب انگیز بات نہیں اور نہ اس میں کوئی خارق عادت امر ہے۔واللہ اعلم۔در اصل خدا تعالیٰ اپنے پاک بندوں کی دو طرح نصرت فرماتا ہے۔اول تو یہ کہ بسا اوقات وہ <mark>اپنی</mark> تقدیر عام یعنی عام قانون قدرت کے ماتحت ایسے سامان جمع کر دیتا ہے جوان کے لئے نصرت و اعانت کا موجب ہوتے ہیں اور گوز یادہ بصیرت رکھنے والے لوگ اس قسم کے امور میں بھی خدائی قدرت نمائی کا جلوہ دیکھتے ہیں۔لیکن عامتہ الناس کے نزدیک ایسے امور کوئی خارق عادت رنگ نہیں رکھتے۔کیونکہ معروف قانون قدرت کے ماتحت ان کی تشریح کی جاسکتی ہے۔دوسری صورت خدائی نصرت کی تقدیر خاص کے ماتحت ہوتی ہے۔جس میں تقدیر عام یعنی معروف قانون قدرت کا دخل نہیں ہوتا اور یہی وہ صورت ہے جو عرف عام میں خارق عادت یا معجزہ کہ<mark>لا</mark>تی ہے۔اور گو اس میں بھی ایک حد تک سنت اللہ کے مطابق اخفاء کا پردہ ہوتا ہے۔لیکن ہر عقل<mark>من</mark>د شخص جسے تعصب نے اندھانہ کر رکھا ہو۔اس کے اندر صاف طور پر خدا کی قدرت خاص کا نظارہ دیکھتا ہے۔پس اگر خدا تعالیٰ نے قسم اول کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ الس<mark>لا</mark>م کے زمانہ میں اپنے عام قانون قدرت کے ماتحت ایسے سامان جمع کر دیئے ہوں