سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 314
سیرت المہدی 314 حصہ دوم فرقہ ہے کیونکہ اس کی وجہ سے بہت سے مسلمان بدعات سے آزاد ہو کر اتباع سنت نبوی سے مستفیض ہوئے ہیں۔مگر انہوں نے بعض باتوں پر اس قدر نا <mark>من</mark>اسب زور دیا ہے اور اتنا مبالغہ سے کام لیا ہے کہ شریعت کی اصل روح سے وہ باتیں باہر ہو گئی ہیں۔اب اصل مسئلہ تو یہ ہے کہ نماز میں دونمازیوں کے درمیان یونہی فالتو جگہ نہیں پڑی رہنی چاہیے بلکہ نمازیوں کو مل کر کھڑا ہونا چاہیے تا کہ اول تو بے فائدہ جگہ ضائع نہ جاوے۔دوسرے بے ترتیبی واقع نہ ہو تیرے بڑے آدمیوں کو یہ بہانہ نہ ملے کہ وہ بڑائی کی وجہ سے اپنے سے کم درجہ کے لوگوں سے ذرا ہٹ کر الگ کھڑے ہوسکیں وغیر ذالک۔مگر اس پر اہل حدیث نے اتناز ورد یا اور اس قدر مبالغہ سے کام لیا ہے کہ یہ مسئلہ ایک مضحکہ خیز بات بن گئی۔اب گویا ایک اہل حدیث کی نماز ہو نہیں سکتی جب تک وہ اپنے ساتھ والے نمازی کے کندھے سے کندھا اور ٹخنہ سے ٹخنہ اور پاؤں سے پاؤں رگڑاتے ہوئے نماز ادا نہ کرے حا<mark>لا</mark>نکہ اس قدر قرب بجائے مفید ہونے کے نماز میں خواہ مخواہ پریشانی کا موجب ہوتا ہے۔345 بسم اللہ الرح<mark>من</mark> الرحیم۔حافظ محمد ابراہیم صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ۱۹۰۳ء کا واقعہ ہے کہ میں ایک دن مسجد مبارک کے پاس والے کمرہ میں بیٹھا <mark>ہوا</mark> تھا کہ مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم تشریف <mark>لا</mark>ئے اور اندر سے حضرت مسیح موعود علیہ الس<mark>لا</mark>م بھی تشریف لے آئے اور تھوڑی دیر میں مولوی محمد احسن صاحب امروہی بھی آگئے اور آتے ہی حضرت مسیح موعود سے حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اول کے خ<mark>لا</mark>ف بعض باتیں بطور شکایت بیان کرنے لگے اس پر مولوی عبدالکریم صاحب کو جوش آگیا اور نتیجہ یہ <mark>ہوا</mark> کہ ہر دو کی ایک دوسرے کے خ<mark>لا</mark>ف <mark><mark>آواز</mark></mark>یں <mark>بلند</mark> ہو گئیں اور <mark><mark>آواز</mark></mark> میں کمرے سے باہر جانے لگیں۔اس پر حضرت اقدس نے فرمایا۔لَا تَرُفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ۔(الحجرات:٣) (یعنی اے مو<mark>من</mark>و! <mark>اپنی</mark> <mark><mark>آواز</mark></mark>وں کو <mark><mark>نبی</mark></mark> کی <mark><mark>آواز</mark></mark> کے سا<mark>من</mark>ے <mark>بلند</mark> نہ کیا <mark>کرو</mark>) اس حکم کے سنتے ہی مولوی عبد الکریم صاحب تو فوراً خاموش ہو گئے اور مولوی محمد احسن صاحب تھوڑی دیر تک آہستہ آہستہ اپنا جوش نکالتے رہے اور حضرت اقدس وہاں سے اٹھ کر ظہر کی نماز کے واسطے مسجد مبارک میں تشریف لے گئے۔