سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 268
سیرت المہدی 268 حصہ اوّل اس کے ع<mark>لا</mark>وہ آریہ سماج کی زہریلی کچلیاں توڑنے میں مرزا صاحب نے اس<mark>لا</mark>م کی بہت خاص خدمت سرانجام دی ہے ان کی آریہ سماج کے مقابلہ کی تحریروں سے اس دعوئی پر نہایت صاف روشنی پڑتی ہے کہ آئندہ ہماری مدافعت کا سلسلہ خواہ کسی درجہ تک وسیع ہو جاوے، ناممکن ہے کہ یہ تحریر یں نظر انداز کی جاسکیں۔فطری ذہانت مشق و مہارت اور مسلسل بحث و مباحثہ کی عادت نے مرزا صاحب میں ایک خاص شان <mark>پیدا</mark> کر دی تھی۔اپنے مذہب کے ع<mark>لا</mark>وہ مذہب غیر پر ان کی نظر نہایت وسیع تھی اور وہ <mark>اپنی</mark> ان معلومات کو نہایت سلیقہ سے استعمال کر سکتے تھے تبلیغ وتلقین کا یہ ملکہ ان میں <mark>پیدا</mark> ہو گیا تھا کہ مخاطب کسی قابلیت یا کسی مشرب و ملت کا <mark>ہوا</mark>ن کے برجستہ جواب سے ایک دفعہ ضرور گہرے فکر میں پڑ جاتا تھا۔ہندوستان <mark>آج</mark> مذاہب کا عجائب خانہ ہے اور جس کثرت سے چھوٹے بڑے مذاہب یہاں موجود ہیں اور باہمی کشمکش سے <mark>اپنی</mark> موجودگی کا اع<mark>لا</mark>ن کرتے رہتے ہیں۔اس کی نظیر غالبا دنیا میں کسی اور جگہ نہیں مل سکتی۔مرزا صاحب کا دعویٰ تھا کہ میں ان سب کیلئے حکم و عدل ہوں۔لیکن اس میں ک<mark>لا</mark>م نہیں کہ ان مختلف مذاہب کے مقابلہ پر اس<mark>لا</mark>م کو نمایاں کر دینے کی ان میں بہت مخصوص قابلیت تھی۔اور یہ نتیجہ تھی ان کی فطری استعداد کا ذوق مطالعہ اور کثرت مشق کا۔آئندہ امید نہیں کہ ہندوستان کی مذہبی دنیا میں اس شان کا شخص <mark>پیدا</mark> ہو جو <mark>اپنی</mark> اعلیٰ خواہشیں اس طرح مذہب کے مطالعہ میں صرف کر دے۔297 بسم اللہ الرح<mark>من</mark> الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ <mark>اپنی</mark> انگریزی کتاب ” احمد یہ موو<mark>من</mark>ٹ“ میں پادری والٹر ایم۔اے جو وائی ایم سی اے کے سیکرٹری تھے۔حضرت مسیح موعود کے متعلق <mark>من</mark>درجہ ذیل رائے کا اظہار کرتے ہیں۔یہ بات ہر طرح ثابت ہے کہ مرزا صاحب <mark>اپنی</mark> عادات میں سادہ اور فیاضانہ جذبات رکھنے والے تھے۔ان کی اخ<mark>لا</mark>قی جرات جو انہوں نے اپنے مخالفین کی طرف سے سخت مخالفت اور ایذا رسانی کے مقابلہ میں دکھائی۔یقیناً قابل تحسین ہے۔صرف ایک مقناطیسی جذب اور نہایت خوشگوار اخ<mark>لا</mark>ق رکھنے وا<mark>لا</mark> شخص ہی ایسے لوگوں کی دوستی اور وفاداری حاصل کر سکتا تھا جن میں سے کم از کم دو نے افغانستان میں اپنے عقائد کی