سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 249 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 249

سیرت المہدی 249 حصہ اوّل عرفت مقامى ثم انكرت مديراً فما الجهل بعد العلم ان كنت تشعر تو نے میرے مقام کو پہچانا مگر پھر انکار کر دیا اور پیٹھ پھیر لی لیکن ذرا خیال تو کر کہ علم کے بعد جہالت کی کیا حقیقت ہوتی ہے کمثلک مع علم بحالي وفطنة عجبـت لـه يـبـغـى الهدى ثم يا طر تیرے جیسا شخص جو میرے حا<mark>لا</mark>ت کو خوب جانتا ہے تعجب ہے کہ وہ ہدایت پر آکر پھر راہ راست چھوڑ دے قطعت وداداً قد غر سناه في الصبا و ليس فوادي في الوداد يقصر تو نے محبت کے اس درخت کو کاٹ دیا جو ہم نے نو جوانی میں لگایا تھا مگر میرے دل نے محبت میں کوئی کوتا ہی نہیں کی على غير شيءٍ قلت ماقلت عجلةً ووالـــلــــه انـــي صـــادق <mark>لا</mark> ازوّر تو نے میرے متعلق جو جلد بازی سے کہا ہے وہ بالکل بے بنیاد ہے اور خدا کی قسم میں صادق ہوں جھوٹا نہیں ہوں 278 بسم اللہ الرح<mark>من</mark> الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود نے ۱۸۹۰ء کے اواخر میں فتح اس<mark>لا</mark>م تصنیف فرمائی تھی اور اس کی اشاعت شروع ۱۸۹۱ء میں لدھیانہ میں کی گئی۔یہ وہ پہ<mark>لا</mark> رسالہ ہے۔جس میں آپ نے اپنے مثیل مسیح ہونے اور مسیح ناصری کی وفات کا ذکر کیا ہے۔گویا مسیح موعود کے دعوی کا یہ سب سے پہ<mark>لا</mark> اع<mark>لا</mark>ن ہے۔بعض لوگ جو بیان کرتے ہیں کہ حضرت صاحب نے مسیح موعود کے دعوے کے متعلق سب سے پہلے ایک اشتہار دیا تھا۔میری تحقیق میں یہ غلطی ہے۔سب سے پہ<mark>لا</mark> اع<mark>لا</mark>ن فتح اس<mark>لا</mark>م کے ذریعے <mark>ہوا</mark> اور وہ اشتہار جس کی سرخی یہ ہے۔لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَيَحْيَ مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ فتح اس<mark>لا</mark>م کی اشاعت کے بعد دیا گیا تھا۔بلکہ یہ اشتہار تو فتح اس<mark>لا</mark>م کے دوسرے حصہ توضیح مرام کی اشاعت کے بھی بعد شائع کیا گیا تھا۔جیسا کہ خود اس اشتہار کو پڑھنے سے ظاہر ہوتا ہے پس اشتہار کو دعوی مسیحیت کے متعلق ابتدائی اع<mark>لا</mark>ن سمجھنا جیسا کہ پیر سراج الحق صاحب نے اپنے رسالہ تذکرۃ المہدی میں اور غالباً اُن کی اتباع میں حضرت خلیفتہ المسیح ثانی نے اپنے رسالہ سیرت مسیح موعود میں شائع کیا ہے ایک صریح غلطی ہے۔