سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 200
سیرت المہدی 200 حصہ اوّل <mark>صاحب</mark> ایم۔اے، کہ دادا <mark>صاحب</mark> ہمارے تایا مرزا غلام قادر <mark>صاحب</mark> کو کرسی دیتے تھے۔یعنی جب وہ دادا <mark>صاحب</mark> کے پاس جاتے تو وہ ان کو کرسی پر بٹھاتے تھے لیکن <mark>والد</mark> <mark>صاحب</mark> جا کر خود ہی نیچے صف کے اوپر بیٹھ جاتے تھے۔کبھی داد ا <mark>صاحب</mark> ان کو او پر بیٹھنے کو <mark>کہتے</mark> تو <mark>والد</mark> <mark>صاحب</mark> <mark>کہتے</mark> کہ میں اچھا بیٹھا ہوں۔193 <mark>بسم</mark> اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد <mark>صاحب</mark> نے بواسطہ مولوی رحیم بخش <mark>صاحب</mark> ایم۔اے، کہ <mark>والد</mark> <mark>صاحب</mark> کا دستور تھا کہ سارا دن الگ بیٹھے پڑھتے <mark>رہتے</mark> تھے۔اور ارد <mark>گر</mark> د کتابوں کا ڈھیر لگارہتا تھا۔شام کو پہاڑی دروازے یعنی شمال کی طرف یا مشرق کی طرف سیر کرنے جایا کرتے تھے۔194 <mark>بسم</mark> اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد <mark>صاحب</mark> نے بواسطہ مولوی رحیم بخش <mark>صاحب</mark> ایم۔اے کہ <mark>والد</mark> <mark>صاحب</mark> اردو اور فارسی کے شعر کہا کرتے تھے اور فرخ تخلص کرتے تھے۔195 <mark>بسم</mark> اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد <mark>صاحب</mark> نے بواسطہ مولوی رحیم بخش <mark>صاحب</mark> ایم۔اے کہ <mark>والد</mark> <mark>صاحب</mark> دا دا <mark>صاحب</mark> کی کمال تابعداری کرتے تھے۔افسروں وغیرہ کے ملنے کو خود طبیعت نا پسند کرتی تھی۔لیکن دادا <mark>صاحب</mark> کے حکم سے کبھی کبھی چلے جاتے تھے۔196 <mark>بسم</mark> اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی رحیم بخش <mark>صاحب</mark> ایم۔اے نے ، کہ میں نے مرز اسلطان احمد <mark>صاحب</mark> سے پوچھا کہ حضرت <mark>صاحب</mark> کے ابتدائی حالات اور عادات کے متعلق آپ کو جو علم ہو وہ بتائیں تو انہوں نے جواب دیا کہ <mark>والد</mark> <mark>صاحب</mark> ہر وقت دین کے کام میں لگے <mark>رہتے</mark> تھے۔گھر والے <mark>اُن</mark> پر پور اعتماد کرتے تھے۔گاؤں والوں کو بھی <mark>اُن</mark> پر پورا اعتبار تھا۔شریک جو ویسے مخالف تھے۔<mark>اُن</mark> کی نیکی کے اتنے قائل تھے کہ جھگڑوں میں کہ دیتے تھے کہ جو کچھ یہ کہہ دیں گے ہم کو منظور ہے۔ہر شخص <mark>اُن</mark> کو امین جانتا تھا۔مولوی <mark>صاحب</mark> <mark>کہتے</mark> ہیں میں نے پوچھا کہ کچھ اور بتائیے۔مرزا <mark>صاحب</mark> نے کہا اور بس یہی ہے کہ <mark>والد</mark> <mark>صاحب</mark> نے اپنی عمر ایک مغل کے طور پر نہیں گزاری بلکہ فقیر کے طور پرگزاری۔اور مرزا <mark>صاحب</mark> نے اسے بار بار دہرایا۔مولوی <mark>صاحب</mark> نے کہا کہ میں نے دریافت کیا کہ کیا حضرت <mark>صاحب</mark> کبھی کسی پر ناراض بھی ہوتے تھے؟ مرزا <mark>صاحب</mark> نے جواب دیا کہ <mark>اُن</mark> کی ناراضگی بھی صرف دینی معاملات میں ہوتی تھی۔بعض