سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 114 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 114

سیرت المہدی 114 حصہ اوّل احساس کرتا ہوں کہ فطرتا میرے دل کو خدا تعالیٰ کی طرف وفاداری کے ساتھ ایک کشش ہے جو کسی چیز کے رو کنے سے رک نہیں سکتی۔سو یہ اسی کی عنایت ہے میں نے کبھی ریاضات شاقہ بھی نہیں کیں۔اور نہ زمانہ حال کے بعض صوفیوں کی طرح مجاہدات شدیدہ میں اپنے نفس کو ڈا<mark>لا</mark> اور نہ گوشہ گزینی کے التزام سے کوئی چلہ کشی کی اور نہ خ<mark>لا</mark>ف سنت کوئی ایسا عمل رہبانیت کیا جس پر خدا تعالیٰ کے ک<mark>لا</mark>م کو اعتراض ہو۔بلکہ میں ہمیشہ ایسے فقیروں اور بدعت شعار لوگوں سے بیزار رہا جو انواع اقسام کے بدعات میں مبت<mark>لا</mark> ہیں۔ہاں حضرت والد صاحب کے زمانہ میں ہی جبکہ ان کا زمانہ وفات بہت نزدیک تھا۔ایک مرتبہ ایسا اتفاق <mark>ہوا</mark> کہ ایک بزرگ معمر پاک صورت مجھ کو خواب میں دکھائی دیا۔اور اس نے یہ ذکر کر کے کہ کسی قدرروزے انوار سماوی کی پیشوائی کے لئے رکھنا سنت خاندان نبوت ہے۔اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ میں اس سنتِ اہلِ بیت رسالت کو بجا<mark>لا</mark>ؤں۔سو میں نے کچھ مدت تک التزام صوم کو <mark>من</mark>اسب سمجھا مگر ساتھ ہی یہ خیال آیا کہ اس امر کو مخفی طور پر بجا<mark>لا</mark> نا بہتر ہے۔پس میں نے یہ طریق اختیار کیا کہ گھر سے مردانہ نشست گاہ میں اپنا کھانا <mark>من</mark>گوا تا اور پھر وہ کھانا پوشیدہ طور پر بعض یتیم بچوں کو جن کو میں نے پہلے سے تجویز کر کے وقت پر حاضری کے لئے تاکید کر دی تھی دے دیتا۔اور اس طرح تمام دن روزہ میں گزارتا۔اور بجز خدا تعالیٰ کے، ان روزوں کی کسی کو خبر نہ تھی۔پھر دو تین ہفتہ کے بعد مجھے معلوم <mark>ہوا</mark> کہ ایسے روزوں سے جو ایک وقت میں پیٹ بھر کر روٹی کھالیتا ہوں مجھے کچھ بھی تکلیف نہیں بہتر ہے کہ کسی قدرکھانے کو کم <mark>کرو</mark>ں۔سو میں اس روز سے کھانے کو کم کرتا گیا یہاں تک کہ رات دن میں صرف ایک روٹی پر کفایت کرتا تھا۔اور اسی طرح میں کھانے کو کم کرتا گیا یہاں تک کہ شاید صرف چند تولہ روٹی میں سے آٹھ پہر کے بعد میری غذا تھی۔غالباً آٹھ یا نوماہ تک میں نے ایسا ہی کیا۔اور باوجود اس قدر قلت غذا کے کہ دو تین ماہ کا بچہ بھی اس پر صبر نہیں کر سکتا خدا تعالیٰ نے مجھے ہر ایک ب<mark>لا</mark> اور آفت سے محفوظ رکھا اور اس قسم کے روزہ کے عجائبات میں سے جو میرے تجربہ میں آئے وہ لطیف مکاشفات ہیں جو اس زمانہ میں میرے پر کھلے۔چنانچہ بعض گزشتہ <mark><mark>نبی</mark></mark>وں کی م<mark>لا</mark>قاتیں ہوئیں اور جو اعلیٰ طبقہ کے اولیا اس امت میں گذر چکے ہیں ان سے م<mark>لا</mark>قات ہوئی۔ایک دفعہ عین بیداری کی حالت میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مع حسنین وعلی رضی اللہ عنہ و فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دیکھا۔۔۔۔۔۔