صحیح مسلم (جلد سیز دہم) — Page 145
صحیح مسلم جلد سیزدهم 145 کتاب فضائل الصحابة كِتَابٌ فَخُذُوهُ مِنْهَا فَانْطَلَقْنَا تَعَادَى بِنَا اپنے کپڑے اتارنے پڑیں گے۔اُس نے وہ اپنے خَيْلُنَا فَإِذَا نَحْنُ بِالْمَرْأَةِ فَقُلْنَا أَخْرِجي بالوں کے جوڑے سے نکالا تو ہم اس (خط) کو لے کر الْكِتَابَ فَقَالَتْ مَا مَعِي كِتَابٌ فَقُلْنَا رسول الله ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔اس لَتُخْرِجنَّ الْكِتَابَ أَوْ لَتَلْقِيَنَّ القِيَابَ (خط) میں تھا’ حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے مکہ فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ عِقَاصِهَا فَأَتَيْنَا بِهِ رَسُولَ اللَّهِ میں کچھ مشرکوں کی طرف“۔اس میں انہوں نے ان کو صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا فِيهِ مِنْ حَاطب رسول الله مے کے ایک اہم معاملہ کی مخبری کی تھی۔بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى نَاس مِنَ الْمُشْرِكِينَ مِنْ رسول الله علیہ نے فرمایا اے حاطب یہ کیا ؟ حاطب أَهْلِ مَكَّةَ يُخْبِرُهُمْ بِبَعْض أَمْرِ رَسُولِ اللهِ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ میرے بارہ میں جلدی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ نہ کیجئے۔میں قریش میں باہر سے آکر ملا ہوا آدمی تھا۔صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا خَاطِبُ مَا هَذَا سفیان (راوی) کہتے ہیں وہ ان کے حلیف تھے لیکن قَالَ لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ ان میں سے نہیں تھے۔آپ کے ساتھ جو مہاجر ہیں امْرَأَ مُلْصَقًا فِي قُرَيْشٍ قَالَ سُفْيَانُ كَانَ ان کی اہل مکہ سے ) رشتہ داریاں ہیں جن کی وجہ حَلِيفًا لَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ مِنْ أَنْفُسِهَا أَكَانَ مِمَّنْ سے وہ ان کے اہل کی حفاظت کرتے ہیں میں نے كَانَ مَعَكَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ لَهُمْ قَرَابَاتٌ پسند کیا کہ کیونکہ میرا ان کے ساتھ نسبی تعلق نہیں ہے يَحْمُونَ بِهَا أَهْلِيهِمْ فَأَحْبَبْتُ إِذْ فَاتَني ذَلكَ میں ان سے کوئی احسان کروں جس کے سبب وہ منَ النَّسَب فِيهِمْ أَنْ أَتَّخِذَ فِيهِمْ يَدًا میرے قریبی عزیزوں کی حفاظت کریں اور یہ بات يَحْمُونَ بِهَا قَرَابَتِي وَلَمْ أَفْعَلْهُ كُفْرًا وَلَا میں نے کفر اور اپنے دین سے ارتداد کی وجہ سے نہیں ارْتِدَادًا عَنْ وَلَا رِضًا بِالْكُفْرِ بَعْدَ کی اور نہ ہی اسلام کے بعد کفر پر راضی ہونے کی وجہ ديني الْإِسْلَامِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے نبی ﷺ نے فرمایا اس نے سچ کہا حضرت عمر صَدَقَ فَقَالَ عُمَرُ دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّه نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے اجازت دیں کہ میں أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ فَقَالَ إِنَّهُ قَدْ اس منافق کی گردن ماردوں۔آپ نے فرمایا یہ بدر شَهِدَ بَدْرًا وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَى میں موجود تھا اور تمہیں کیا پتہ کہ اللہ نے اہل بدر أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ پر نگاہ ڈالی اور فرمایا کہ تم جو چاہو عمل کرو میں تمہیں