صحیح مسلم (جلد دہم) — Page iv
بسم الله الرحمن الرحيم پیش لفظ سید ولد آدم فخر المرسلین خاتم النبیین رسول مجتبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کواللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کے لئے بطور رہنما مبعوث کیا اور فرمایا: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهَ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللهَ كَثِيرًا (الاحزاب ۲۲) یعنی یقینا تمہارے لئے اللہ کے رسول میں نیک نمونہ ہے ہر اس شخص کے لئے جو اللہ اور یوم آخرت کی امید رکھتا ہے اور کثرت سے اللہ کو یاد کرتا ہے۔نیز فرمایا: مَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا (الحشر: ۸) رسول جو تمہیں عطا کرے تو اسے لے لو اور جس سے تمہیں رو کے اس سے رک جاؤ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال کو جمع کر کے محدثین نے امت مسلمہ پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام فرماتے ہیں: قرآن شریف کی اور احادیث کی جو پیغمبر خدا سے ثابت ہیں اتباع کریں۔ضعیف سے ضعیف حدیث بھی بشر طیکہ وہ قرآن شریف کے مخالف نہ ہو ہم واجب العمل سمجھتے ہیں اور بخاری اور مسلم کو بعد کتاب الله اصح الکتب مانتے ہیں۔( ملفوظات جلد ۴ صفحه ۱۰۸،۱۰۷)