صحیح مسلم (جلد دہم) — Page 230
صحیح مسلم جلد دهم کابیان صلح حدیبیہ 20 انڈیکس 94 کی طرح ہے جو نہ روزہ چھوڑتا ہے نہ نماز، یہانتک اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا واپس آ جائے۔جد بن قیس انصاری نے صلح حدیبیہ کے دن بیعت نہیں عتیرہ کی تھی وہ اونٹ کے پیچھے چھپ گیا تھا۔54 فرع اور عتیرہ کا بیان 81۔80 203 حدیبیہ کے دن 400 اصحابہ نے رسول اللہ ﷺ کی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نہ کوئی فرع ہے اور نہ عتیرہ بیعت کی کہ ہم فرار نہیں ہوں گے 57-55-54-5 203 نی عملے کا حدیبیہ کے کنویں پر دعا کرنا۔54 عتیرہ رجب میں ذبح کی جانے والی بکری۔204 | حدیبیہ کے دن بیعت کرنے والے زمین پر رہنے والوں عدل میں سب سے بہتر۔55 حاکم اللہ کے تقویٰ کا حکم دے اور عدل سے کام لے تو اسکے لئے اسکا اجر ہے اور اگر وہ اس کے علاوہ حکم دے تو اللہ نے اس شخص کی ضمانت لے لی ہے جو اس کی راہ میں اس کا وبال اس پر ہے۔رکھتا ہے۔ع ، غ عامل / عمال 76۔75 عصبیت 35 عصبیت کی طرف بلانے یا عصبیت کی مدد کرتے ہوئے قتل ہونا جاہلیت کا قتل ہے۔45 جو کوئی (عامل) بھی مال صدقات میں سے کچھ لے گا وہ عمر قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اسکی گردن پر بلبلاتا 14 سال کی عمر میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبد الله اونٹ یا آواز نکالنے والی گائے یا بکری چیخ رہی ہوگی۔کو جنگ میں حصہ لینے کی اجازت نہ دی تھی جبکہ 15 23، 21 سال کی عمر میں دے دی تھی۔65 عامل سب چیزیں لیکر آئے ، پھر اُسے مال میں سے کچھ دیا عمل / اعمال جاوے لے لے اور جس سے اُسے منع کیا جائے تو نہ لے سمندروں کے پار بھی عمل ہو تو اللہ تعالیٰ اعمال کا بدلہ کم 24 نہیں دے گا۔حضرت عمر بن عبدالعزیز کا عاملوں کو حکم کہ پندرہ برس اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ایسا عمل جس سے جنت میں سو والے کا حصہ مقرر کرو جو اس سے کم ہوا سے بچوں میں درجات ملیں گے۔شامل کرو عبادت 66 اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اور اللہ پر ایمان لانا سب سے افضل عمل ہے۔62 85 86 اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کا حال اس عبادت گزار رسول اللہ ﷺ کا ارشاد کہ اعمال کا دارومدار نیت پر ہے