صحیح مسلم (جلد دہم) — Page 179
ورد جبير مسلم جلد الله دهم 179 کتاب الصيد والذبائح قَالَ مَرَّ ابْنُ عُمَرَ بِفَتَيَانِ مِنْ قُرَيْشٍ قَدْ سے گزرے۔انہوں نے ایک پرندہ کو باندھا ہوا تھا نَصَبُوا طَيْرًا وَهُمْ يَرْمُونَهُ وَقَدْ جَعَلُوا اور اس پر تیراندازی کر رہے تھے۔انہوں نے پرندہ لصَاحِب الطَّيْرِ كُلِّ خَاطِئَةِ مِنْ نَبْلِهِمْ فَلَمَّا کے مالک سے یہ طے کیا تھا کہ ان کے ہر خطا جانے رَأَوُا ابْنَ عُمَرَ تَفَرَّقُوا فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ مَنْ والے تیر اس کے ہوں گے۔جب انہوں نے فَعَلَ هَذَا لَعَنَ اللهُ مَنْ فَعَلَ هَذَا إِنَّ رَسُولَ حضرت ابن عمر کو دیکھا تو منتشر ہو گئے۔حضرت ابن اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ مَن اتَّخَذَ عمرؓ نے کہا یہ کس نے کیا ہے؟ اللہ اس پر لعنت کرے شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا [5062] جس نے یہ کیا ہے۔یقین رسول اللہ ﷺ نے اس پر لعنت کی ہے جو کسی روح والی چیز کو (باندھ کر) ٹارگٹ بناتا ہے۔3606(61) حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا :3606 حضرت جابر بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْج ح و حَدَّثَنَا رسول الله ﷺ نے کسی بھی جانور کو باندھ کر مارنے عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ سے منع فرمایا ہے۔أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ح و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْد اللَّه حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْد اللَّه يَقُولُ نَهَى رَسُولُ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْتَلَ شَيْءٌ مِنَ الدَّوَابِّ صَبْرًا [5063] = : تخريج : بخارى كتاب الذبائح والصيد باب ما يكره من المثلة والمصبورة۔۔5514 ، 5515 نسائي كتاب الضحايا النهي عن المجثمة 4441 ، 4442 3606 : تخريج : ابن ماجه كتاب الذبائح باب النهي عن صبر البهائم 3188