صحیح مسلم (جلد نہم)

Page 275 of 301

صحیح مسلم (جلد نہم) — Page 275

صحیح مسلم جلد نهم 19 انڈیکس فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کا فرمان جو شخص فیصلہ نہ کرے جبکہ وہ غصے کی حالت میں ہو ابوسفیان کے گھر داخل ہوگا وہ امن میں آجائے گا اور جس دو عورتوں کا ایک بچہ کے معاملہ میں جھگڑا کرنا اور نے ہتھیار ڈال دیئے وہ بھی امن میں ہے اور جو اپنا دروازہ حضرت سلیمان کا فیصلہ فرمانا بند کر لے وہ بھی امن میں ہے فی ﷺ کا ارشاد ( فتح مکہ سے لے کر ) قیامت تک کوئی کروانا پسند یدہ ہے قریشی باندھ کر قتل نہ کیا جائے فرشته 88 91 188 فیصلہ کرنے والے کا دو جھگڑنے والوں کے درمیان صلح 91 190 ایک شخص کا زمین بیچنا اور خریدنے والے کو اس میں سے سونے سے بھرا گھڑ املنا اور ایک شخص کا فیصلہ کرنا کہ وہ دونوں پہاڑوں کے فرشتہ کا رسول اللہ ﷺ سے کہنا کہ اگر آپ اپنی بیٹی اور بیٹے کا باہم رشتہ کر لیں 92 چاہیں تو میں ان دو پہاڑوں کو ان پر ملا دوں 209 حضرت عباس کا اپنے اور حضرت علی کے درمیان جھگڑے غزوہ بدر میں فرشتوں کی مدد اور غنیمتوں کا جائز ہونا 150 کا حضرت عمرؓ سے تصفیہ چاہتا فئے فے کا حکم قاضی 140 137 اس بات کی ناپسندیدگی کہ قاضی غصہ کی حالت میں فیصلہ جس بستی پر مسلمان فتح پائیں اس میں مسلمانوں کا حصہ ہے کرے اور خمس رسول اللہ ﷺ کا ہے 138 قافیہ آرائی 88 بنو نضیر کے اموال اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو فٹے کے طور پر حمل بن النابغہ الھند لی کو اس کے متفقی مسمع کلام کی وجہ سے دیئے 138 کا ہنوں کا بھائی قرار دیا جانا 33 مال فئے رسول اللہ علیہ کی صوابدید پر تھا 138 رسول اللہ ﷺ کا معنی ومسمع کلام کو بزوؤں کی قافیہ آرائی مال فئے اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے لئے ہے 141 قرار دینا حضرت فاطمہ نے حضرت ابو بکر سے مال نئے اور فدک قتل / قاتل / مقتول سے میراث طلب کی۔فیصلہ 35۔34 148،147،144 ایک یہودی کا زیور کی خاطر ایک لڑکی کو قتل کرنا اور پھر اس یہودی کا دو پتھروں سے قتل کیا جانا 15۔14 رسول اللہ یہ بات سن کر فیصلہ فرماتے تھے 80 81 کسی جان کو ظلم سے قتل نہیں کیا جاتا مگر آدم کے بیٹے پر اس اس بات کی ناپسندیدگی کہ قاضی غصہ کی حالت میں فیصلہ کے خون میں حصہ ہوتا ہے کرے۔23 ایک شخص کا دوسرے شخص کو قتل کرنے کا اعتراف کرنے اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی شخص دو آدمیوں کے درمیان رسول اللہ ﷺ کے کہنے پر مدعی کا اسے چھوڑ دیتا 29 ،30