صحیح مسلم (جلد نہم) — Page 98
صحیح مسلم جلد نهم 98 كتاب اللقطة سَمِعْتُ سُوَيْدَ بْنَ غَفَلَةَ قَالَ خَرَجْتُ أَنَا ان دونوں نے مجھے کہا اسے رہنے دو۔میں نے کہا وَزَيْدُ بْنُ صُوحَانَ وَسَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ نہیں بلکہ میں اس کا اعلان کروں گا۔اگر اس کا مالک غَازِينَ فَوَجَدْتُ سَوْطًا فَأَخَذْتُهُ فَقَالَا لِي آئے گا ( تو اسے دے دوں گا ) ورنہ میں اس سے دَعْهُ فَقُلْتُ لَا وَلَكِنِّي أُعَرِّفُهُ فَإِنْ جَاءَ فائدہ اُٹھاؤں گا۔وہ کہتے ہیں میں نے ان دونوں کی صَاحِبُهُ وَإِلَّا اسْتَمْتَعْتُ به قَالَ فَأَبَيْتُ بات کا انکار کر دیا۔جب ہم اپنے غزوہ سے لوٹے تو عَلَيْهِمَا فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ غَزَاتِنَا قُضِيَ لِي میرے لئے مقدر ہوا میں نے حج کیا اور پھر میں أَنِّي حَجَجْتُ فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ أُبَيَّ مدینہ آیا اور حضرت ابی بن کعب سے ملا اور انہیں بْنَ كَعْب فَأَخْبَرْتُهُ بِشَأْنِ السَّوْطِ وَبِقَوْلِهِمَا چابک اور ان دونوں کی بات بتائی۔انہوں نے کہا فَقَالَ إِنِّي وَجَدْتَ صُرَّةً فِيهَا مِائَةُ دينار رسول الله ﷺ کے زمانہ میں مجھے ایک تفصیلی ملی جس عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ میں سو دینار تھے۔میں وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُ بِهَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ لایا۔آپ نے فرمایا اس کا ایک سال تک اعلان عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَرِّفْهَا حَوْلًا قَالَ فَعَرَّفْتُهَا کرو۔وہ کہتے ہیں میں نے اس کا اعلان کیا لیکن میں وہ مَنْ يَعْرِفُهَا ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَقَالَ عَرِّفْهَا نے کوئی شخص اسے پہچاننے والا نہ پایا پھر حَوْلًا فَعَرَّفْتُهَا فَلَمْ أَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا ثُمَّ أَتَيْتُهُ میں آپ کے پاس آیا۔آپ نے فرمایا ایک سال فَقَالَ عَرِّفْهَا حَوْلًا فَعَرَّفْتُهَا فَلَمْ أَجِدٌ مَنْ (اور ) اعلان کرو۔میں نے پھر ایک سال اعلان کیا يَعْرِفُهَا فَقَالَ احْفَظْ عَدَدَهَا وَوِعَاءَهَا مگر کوئی اسے پہچانے والا نہ پایا۔میں پھر آپ کے وَوِكَاءَهَا فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَاسْتَمْتَعْ پاس آیا۔آپ نے فرمایا ایک سال اور اعلان کرو۔بهَا فَاسْتَمْتَعْتُ بِهَا فَلَقيتُهُ بَعْدَ ذَلكَ بمَكَّةَ میں نے ایک سال اور اعلان کیا لیکن کسی کو اسے فَقَالَ لَا أَدْرِي بِثَلَاثَةِ أَحْوَالِ أَوْ حَوْلٍ وَاحد پہچانے والا نہ پایا۔آپ نے فرمایا اس کی گنتی کر لو اور و حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشَرِ الْعَبْدِيُّ اس کی تھیلی اور اس کے بندھن کو یاد رکھو۔اگر اس کا حَدَّثَنَا بَهْرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي سَلَمَةُ بْنُ مالک آجائے ( تو ٹھیک ) ورنہ تم اس سے فائدہ كُهَيْلِ أَوْ أَخْبَرَ الْقَوْمَ وَأَنَا فِيهِمْ قَالَ اُٹھاؤ۔میں نے اُس سے فائدہ اُٹھایا۔راوی کہتے سَمِعْتُ سُوَيْدَ بْنَ غَفَلَةَ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ ہیں پھر اس کے بعد میں اُن ( سلمہ بن کہیل ) سے مکہ