صحیح مسلم (جلد ہشتم) — Page 295
حیح مسلم جلد هشتم 8 مضامین انڈیکس ا، ب، پ، ت، ثث زیادہ قریب ہوں ، جو قرض یا چھوٹے بچے چھوڑ جائیں ، میں اسکا الله غیر اللہ کی قسم کھانے کی ممانعت 186 ذمہ دار ہوں ، اور جو کوئی تم میں سے مال چھوڑے تو وہ اس کے رشتہ 241 داروں کا ہے جو بھی ہوں۔جو لات و عزبی کی قسم کھالے وہ لا الہ الا اللہ کہے 244 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں حق کے سوا کسی بات پر گواہی نہیں جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتا ہے وہ سوائے ایک جیسے دیتا۔(سونے کے) کچھ نہ لے۔202 139 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ! اپنے گھر والوں کو اچھی حالت میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تمہیں منع کرتا ہے کہ تم اپنے باپوں کی قسم چھوڑنا یا فرمایا اچھی معیشت میں چھوڑ جانا بہتر ہے۔کھاؤ 219 241 جمعرات کے دن رسول اللہ کی تکلیف شدت اختیار کر گئی تھی۔243 226 قسم کھانے والا اللہ کی قسم کھائے یا خاموش رہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے قسم کھائی ہو وہ اللہ کے سواکسی کی رسول اللہ ﷺ کا فرمانا کہ میرے پاس کشف اور دوات لاؤں میں 244 243 تمہیں ایک تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہیں ہوگے۔قسم نہ کھائے آنحضرت 228,227 226 رسول اللہ ﷺ بہت رحم کرنے والے اور نرم دل تھے 235 رسول اللہ ہی کہ حضرت عائشہ کی گود کا سہارا لئے ہوئے تھے جب ایک شخص کا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ درشتی سے پیش آنا اور آپ آپ کی وفات ہوئی۔کا فرمانا۔حقدار ( قرض خواہ) کچھ کہہ بھی لیتا ہے۔160 آباء مقروض شخص ( کا جنازہ) آتا تو رسول اللہ سے پوچھتے کیا اس نے قریش اپنے آباء کی قسم کھاتے تھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم اتنا چھوڑا ہے جس سے قرض ادا ہو جائے تو آپ جنازہ پڑھتے ورنہ اپنے باپوں کی قسم نہ کھاؤ صحابہ سے فرماتے آپ پڑھ لیں۔185 آخرت 244 جب اللہ تعالی نے رسول اللہ ﷺ مالی فراخی عطا فرمائی تو مقروض جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتا ہے وہ سوائے ایک جیسے کے بارہ میں فرماتے اس کے قرض کی ادائیگی میرے ذمہ ہے اور اگر (سونے کے) کچھ نہ لے۔اس نے مال چھوڑا ہے تو اس کے وارثوں کے لئے ہے۔185 آفات رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تمام انسانوں سے اس کے سب سے آفات کی وجہ سے ( قیمت ) کم کرنا 139 88