صحیح مسلم (جلد ہشتم)

Page 223 of 328

صحیح مسلم (جلد ہشتم) — Page 223

مسلم جلد هشتم 223 كتاب الوصيت عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ أَصَابَ ملی۔وہ نبی ﷺ کے پاس اس کے متعلق مشورہ عُمَرُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ فَأَتَى النَّبِيِّ صَلَّى الله کرنے آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے خیبر عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْمِرُهُ فِيهَا فَقَالَ يَا رَسُولَ میں کچھ زمین ملی ہے اور کبھی بھی مجھے کوئی ایسا مال الله إِنِّي أَصَبْتُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ لَمْ أُصِبْ مَالًا نہیں ملا جو میرے خیال میں اس سے بہتر ہو۔آپ قَطَّ هُوَ أَنْفَسُ عِنْدِي مِنْهُ فَمَا تَأْمُرُنِي بِهِ قَالَ مجھے اس کے متعلق کیا ارشاد فرماتے ہیں؟ آپ نے إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا فرمایا اگر چاہو تو اصل زمین اپنے پاس رکھو اور اس قَالَ فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ أَنَّهُ لَا يُبَاعُ أَصْلُهَا وَلَا ( کی آمدنی سے صدقہ کرو۔وہ کہتے ہیں چنانچہ يُبْتَاعُ وَلَا يُورَثُ وَلَا يُوهَبُ قَالَ فَتَصَدَّقَ حضرت عمرؓ نے اسے صدقہ کیا کہ اصل زمین فروخت عُمَرُ فِي الْفُقَرَاءِ وَفِي الْقُرْبَى وَفِي الرِّقَابِ نہ کی جائے گی اور نہ خریدی جائے گی نہ ورثہ میں وَفي سَبيل الله وَابْنِ السَّبِيلِ وَالضَّيْف لَا جائے گی نہ ہبہ کی جائے گی۔وہ (حضرت ابن عمر) جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بالْمَعْرُوفِ أَوْ يُطْعَمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّل کہتے ہیں حضرت عمر نے اسے فقراء ، رشتہ داروں ، غلاموں کی آزادی اور اللہ کی راہ میں اور مسافروں اور فِيهِ قَالَ فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ مُحَمَّدًا مہمانوں کے لئے صدقہ کر دیا۔جو شخص اس کا نگران فَلَمَّا بَلَغْتُ هَذَا الْمَكَانَ غَيْرَ مُتَمَوِّل فيه ہو اس پر گناہ نہیں کہ دستور کے مطابق اس میں سے قَالَ مُحَمَّدٌ غَيْرَ مُتَأَثْلٍ مَالًا قَالَ ابْنُ عَوْنٍ کھائے یا دوست کو کھلائے جبکہ وہ اس سے مال وَأَلْبَأَنِي مَنْ قَرَأَ هَذَا الْكِتَابَ أَنْ فِيهِ غَيْرَ مُتَأَثْل مَالًا و حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ أَخْبَرَنَا أَزْهَرُ السَّمَّانُ بنانے والا نہ ہو۔ایک اور روایت میں (غَيْرَ مُتَمَوِلٍ کی بجائے ) غَيْرَ مُتَأَئِلٍ مَالًا کے الفاظ ہیں۔حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ ایک اور روایت حضرت عمرؓ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ ح و کہ مجھے خیبر کی زمین سے ایک زمین ملی تو میں بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ كُلُّهُمْ عَنْ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض ابْنِ عَوْنِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ کیا مجھے ایسی زمین ملی ہے کہ اس سے زیادہ پسندیدہ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ وَأَزْهَرَ انْتَهَى عِنْدَ قَوْلِهِ أَوْ اور نفیس مال میرے نزدیک مجھے کبھی نہیں ملا۔