صحیح مسلم (جلد ہفتم) — Page 54
صحیح مسلم جلد هفتم 54 كتاب النكاح إِلَى أَعْمَالِهِمْ فَقَالُوا مُحَمَّدٌ وَاللَّهِ قَالَ عَبْدُ عبد العزیز کہتے ہیں ہمارے بعض ساتھیوں نے کہا محمد الْعَزِيزِ وَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا مُحَمَّدٌ اور لشکر !۔راوی کہتے ہیں ہم نے خیبر کی فتح قوت کے وَالْحَمِيسُ قَالَ وَأَصَبْنَاهَا عَنْوَةً وَجُمِعَ ذریعہ حاصل کی تھی۔قیدی جمع کئے گئے تو دحیہ آپ السَّبْيُ فَجَاءَهُ دَحْيَةً فَقَالَ يَا رَسُولَ اللہ کے پاس آئے اور کہا یا رسول اللہ ! قیدیوں میں سے أَعْطِنِي جَارِيَةً مِنَ السَّبِّي فَقَالَ اذْهَبْ فَخَذَ ایک لڑکی مجھے عنایت فرمائیے۔آپ نے فرمایا جاؤ جَارِيَةً فَأَخَذَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ فَجَاءَ رَجُلٌ اور ایک لڑکی لے لو۔انہوں نے صفیہ بنت حیی کو لے إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا لیا۔اس پر ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا اے نَبيَّ الله أَعْطَيْتَ دحيَةَ صَفِيَّةَ بنت حُيَی اللہ کے نبی! آپ نے بنو قریظہ اور بنو نضیر کے سردار سَيِّدِ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرِ مَا تَصْلُحُ إِلَّا لَكَ قَالَ کی بیٹی صفیہ دحیہ کو دے دی ہے۔وہ صرف آپ کے ادْعُوهُ بهَا قَالَ فَجَاءَ بِهَا فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهَا شایانِ شان ہے۔آپ نے فرمایا اسے ( وحیہ ) کوان النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خُذْ جَارِيَةً ( حضرت صفیہؓ) کے ساتھ بلاؤ۔راوی کہتے ہیں مِنَ السَّبْيِ غَيْرَهَا قَالَ وَأَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا وه (وحید) اسے لے کر آئے۔پھر نبی ﷺ نے اسے فَقَالَ لَهُ ثَابِتٌ يَا أَبَا حَمْزَةَ مَا أَصْدَقَهَا قَالَ دیکھ کر فرمایا تم قیدیوں میں سے اس کے علاوہ کوئی نَفْسَهَا أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا حَتَّى إِذَا كَانَ لڑکی لے لو۔راوی کہتے ہیں آپ نے اس (صفیہؓ) بِالطَّرِيقِ جَهَّزَتْهَا لَهُ أُمُّ سُلَيْمٍ فَأَهْدَتْهَا لَهُ مِنَ کو آزاد کیا اور اس سے شادی کی۔ثابت نے کہا اے اللَّيْلِ فَأَصْبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابوحمزہ آپ علیہ نے ان کو کیا حق مہر دیا تھا ؟ انہوں عَرُوسًا فَقَالَ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ شَيْءٍ فَلْيَجِی نے کہا ان کا نفس، آپ نے انہیں آزاد کیا اور ان سے قَالَ وَبَسَطَ نِطَعَا قَالَ فَجَعَلَ الرَّجُلُ شادی کی۔جب آپ راستہ میں تھے تو حضرت ام سلیم يَجِيءُ بِالْأَقِطِ وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالدَّمْرِ نے اسے آپ کے لئے تیار کیا اور انہیں رات کے وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالسَّمْنَ فَحَاسُوا وقت آپ کی خدمت میں پیش کیا۔اس طرح نبی مو حَيْسًا فَكَانَتْ وَلِيمَةَ رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ دولہا بن گئے۔آپ نے فرمایا جس کے پاس جو کچھ ہو لے کر آجائے۔راوی کہتے ہیں آپ نے دستر عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [3497] خوان بچھایا۔راوی کہتے ہیں پھر کوئی شخص پنیر لے کر به