صحیح مسلم (جلد ہفتم) — Page 269
ح مسلم جلد هفتم 10 انڈیکس 134 پاس ایک ہفتہ ٹھہروں تو پھر باقی بیویوں کے پاس بھی ایک ہفتہ حضرت میمونہ کا جنازہ سرف کے مقام پر ہوا تھا۔128 129 حضرت صفیہ بنت حتی بن اخطب کے لئے باری مقررنہ تھی 135 ٹھہروں گا۔حضرت ام سلمہ کا رسول اللہ ﷺ سے عرض کرنا تین دن رسول اللہ اللہ حضرت زینب کے ہاں ٹھہرتے اور شہد نوش ني لانے کی نو ازواج مطہرات تھیں۔129 | فرماتے۔164 131 حضرت سودہ کا پوچھنا! یا رسول اللہ ! آپ نے مغافیر کھایا ہے۔نبی ﷺ کی باری جس گھر میں ہوتی تمام ازواج اکٹھی ہو جاتیں۔165 131 حضرت حفصہ نے رسول اللہ ﷺ کو شہد پلایا۔165 166 نبی ﷺ کی اپنی بیویوں کی تقسیم اس طرح تھی کہ پہلی بیوی حضرت ام سلمہ کا رسول اللہ ﷺ سے عرض کرنا تین دن 131 129 کے پاس نویں دن تشریف لاتے۔بیویوں کے درمیان نو دنوں کی تقسیم اور سنت یہ ہے کہ ہر ایک کے رسول اللہ ﷺ جب حضرت ام سلمہ کے پاس سے جانے لگے تو لئے رات مع اس کے دن کے ہو۔131 انہوں نے آپ کے کپڑے کو پکڑ لیا۔129 اپنی سوت کو بار کی ہبہ کرنے کے جواز کا بیان 132 جب رسول اللہ ﷺ کو اپنی ازواج کے بارہ میں اختیار دینے کا حضرت عائشہ کو حضرت سودہ بنت زمعہ سے بڑھ کر کوئی عورت حکم دیا گیا تو آپ نے ابتداء حضرت عائشہ سے کی۔166 محبوب نہ تھی کہ آپ اس کے قالب میں ہوں۔132 حضرت عائشہ کا رسول اللہ ﷺ کو ترجیح دینا۔حضرت سودہ نے اپنی باری حضرت عائشہ کو دے دی تھی 132 رسول اللہ ﷺ کی سب بیویوں کا جواب حضرت عائشہ والا تھا حضرت سودہ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی میں اپنی باری یعنی انہوں نے حضور کو ترجیح دی 167 167 عائشہ کو دیتی ہوں۔حضرت سودہ وہ پہلی خاتون تھیں جن سے رسول اللہ مے نے دیا تھا ہم اسے طلاق شمار نہ کرتی تھیں۔168 169 170 132 حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں جو اختیار 133 اطاعت حضرت عائشہ کے بعد شادی کا فیصلہ فرمایا۔حضرت عائشہ کو اس بات پر غیرت آتی تھی کہ کوئی عورت کیسے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد اللہ کی اطاعت اور اس کے رسول کی اپنے آپ کو رسول اللہ لے کے لئے ہبہ کرتی ہے۔133 اطاعت تمہارے لئے بہتر ہے۔“ حضرت عائشہ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا آپ کا رب اوطاس آپ کی خواہشات بہت جلد پورا کر دیتا ہے۔134 اوطاس کی جنگ کے بعد کچھ عورتوں کا قیدی بنایا جاتا حضرت عائشہ فرماتی ہیں کیا عورت کو شرم نہیں آتی کہ وہ اپنے بچہ آپ کو کسی مرد کے لئے ہبہ کرے۔134 بچہ بستر والے کا ہے اور شبہات سے بچنا 202 122 124