صحیح مسلم (جلد ہفتم) — Page 243
حیح مسلم جلد هفتم 243 كتاب العتق قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ نے ان سے فرمایا تم اسے خریدو اور آزاد کر دو۔ولاء تو مَا بَالُ أُنَاسِ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي صرف اس کے لئے ہے جو اسے آزاد کر دے۔پھر كِتَابِ اللَّهِ مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا لوگوں کو کیا كِتَابِ اللهِ فَلَيْسَ لَهُ وَإِنْ شَرَطَ مِائَةَ مَرَّةٍ ہو گیا ہے کہ وہ ایسی شرائط باندھتے ہیں جو اللہ کی شَرْطُ اللَّهِ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ (7) حَدَّثَنِي أَبُو کتاب میں نہیں ہیں جو شخص ایسی شرط کرتا ہے جو اللہ الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبِ أَخْبَرَنِي يُونُسُ کی کتاب میں نہیں ہے تو ایسے شخص کے لئے کچھ نہیں عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ ہے اگر چہ وہ سومرتبہ شرط باند ھے۔اللہ کی شرط ہی عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زیادہ حقدار اور مضبوط ہے۔أَنَّهَا قَالَتْ جَاءَتْ بَرِيرَةُ إِلَيَّ فَقَالَتْ يَا الله ایک اور روایت نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عَائِشَةُ إِنِّي كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ عائشہؓ سے مروی ہے آپ فرماتی ہیں بریرہ میرے في كُلِّ عَامٍ أُوقِيَّةٌ بِمَعْنَى حَدِيث اللَّيْث پاس آئی اور اس نے کہا اے عائشہ میں نے اپنے وَزَادَ فَقَالَ لَا يَمْنَعُكِ ذَلِكَ مِنْهَا ابْتَاعِي مالکوں سے ہر سال نو اوقیہ پر مکاتبت کی ہے۔اور وَأَعْتَقى وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ ثُمَّ قَامَ رَسُولُ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ [3777,3778] اس روایت میں یہ بات مزید ہے کہ آپ علی نے فرمایا یہ بات تمہیں اس کو خرید کر آزاد کرنے سے نہ روکے۔خریدو اور آزاد کرو۔اس روایت میں یہ بھی ہے کہ پھر رسول اللہ علہ لوگوں میں کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمد و ثناء بیان کی پھر اس کے بعد فرمایا بات یہ ہے کہ۔۔۔۔ورثہ کے حقوق قرآن شریف میں بیان ہیں جس میں ہر گز یہ ذکر نہیں کہ یہ کوئی شرعی حکم ہے۔ایک نیک دستور تھا کہ آزاد کرنے والے کا ایک معاشرتی تعلق قائم رہتا تھا اگر وارث نہ ہوں تو وہ وارث بھی ہو جاتا تھا۔اس کو ولاء کہتے تھے۔