صحیح مسلم (جلد ششم) — Page 250
منْ أَجْلِ سقَايَتِهِ فَأَذِنَ لَهُ و حَدَّثَنَاهُ إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ح و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِم وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْد جَمِيعًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ كِلَاهُمَا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ [3178,3177] 250 كتاب الحج 2305{347] وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ 2305 : بکر بن عبد اللہ المزنی سے روایت ہے وہ الضَّرِيرُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ کہتے ہیں میں حضرت ابن عباس کے ساتھ کعبہ کے الطَّوِيلُ عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ قَالَ پاس بیٹھا ہوا تھا آپ کے پاس ایک بدوی آیا اور کہا یہ كُنتُ جَالِسًا مَعَ ابْنِ عَبَّاسِ عِنْدَ الْكَعْبَةِ کیا بات ہے میں تمہارے چا کے بیٹوں کو دیکھتا ہوں فَأَتَاهُ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ مَا لِي أَرَى بَنِي عَمِّكُمْ کہ وہ شہد اور دودھ پلاتے ہیں اور تم (لوگ) نبیذ يَسْقُونَ الْعَسَلَ وَاللَّبَنَ وَأَنْتُمْ تَسْقُونَ پلاتے ہو، کیا یہ تمہاری کسی مجبوری سے ہے یا بخل کی النَّبِيذَ أَمِنْ حَاجَةٍ بِكُمْ أَمْ مِنْ بُخْلِ فَقَالَ وجہ ہے۔حضرت ابن عباس نے کہا سب تعریفیں اللہ ابْنُ عَبَّاسِ الْحَمْدُ لِلَّهِ مَا بِنَا مِنْ حَاجَةٍ وَلَا کے لئے ہیں۔ہمیں نہ کوئی مجبوری ہے اور نہ ہی بخل بُخْلِ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ہے۔نبی ﷺ اپنی سواری پر تشریف لائے اور آپ رَاحِلَتِه وَخَلْفَهُ أَسَامَةُ فَاسْتَسْقَى فَأَتَيْنَاهُ کے پیچھے اسامہ تھے۔آپ نے پانی طلب کیا۔ہم بِإِنَاءِ مِنْ نَبِيدُ فَشَرِبَ وَسَقَى فَضْلَهُ أَسَامَةَ ایک پیالہ نبیذ کا لائے۔آپ نے پیا اور آپ نے اپنی وَقَالَ أَحْسَنْتُمْ وَأَجْمَلْتُمْ كَذَا فَاصْنَعُوا فَلَا باقی بچی ہوئی ( نبیذ ) حضرت اسامہ کو پلائی۔پھر نُرِيدُ تَغْسِيرَ مَا أَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ آپ نے فرمایا بہت اچھا اور عمدہ کام کر رہے ہو ، تم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [3179] (ایسا ہی کرتے رہو۔(حضرت ابن عباس نے کہا ) ہمیں جس بات کا رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا ہے ہم اس میں تبدیلی نہیں چاہتے۔2305: تخريج بخارى كتاب الحج باب سقاية الحاج 1635 ابو داود كتاب المناسک باب في نبذ السقاية 2021