صحیح مسلم (جلد ششم) — Page 88
88 كتاب الحج كَتَبَهُ اللهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ افْعَلِي مَا يَفْعَلُ آپ فرماتی ہیں جب میں مکہ آئی تو رسول اللہ الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ حَتَّى نے اپنے صحابہ سے فرمایا اس کو عمرہ بناؤ۔پس سب تَطْهُرِي قَالَتْ فَلَمَّا قَدَّمْتُ مَكَّةَ قَالَ لوگوں نے سوائے ان کے جن کے پاس قربانی تھی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احرام کھول دیئے۔وہ فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ کے لِأَصْحَابِهِ اجْعَلُوهَا عُمْرَةً فَأَحَلَّ النَّاسُ إِلَّا پاس بھی قربانی تھی اور حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ اور مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ قَالَتْ فَكَانَ الْهَدْيُ (اسی طرح دوسرے ) آسودہ حال لوگوں کے پاس مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرِ قربانی تھی۔پھر جب وہ چلے تو انہوں نے احرام وَعُمَرَ وَذَوِي الْيَسَارَةِ ثُمَّ أَهَلُوا حِينَ باندھا۔آپ فرماتی ہیں جب قربانی کا دن تھا میں رَاحُوا قَالَتْ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ طَهَرْتُ پاک ہوگئی۔رسول اللہ علیہ نے مجھے حکم دیا اور میں فَأَمَرَنِي رَسُولُ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے طواف افاضہ کیا۔فَأَفَضَتُ قَالَتْ فَأُتِيَنَا بِلَحْم بَقَرِ فَقَلْتُ مَا آپ فرماتی ہیں ہمارے پاس گائے کا گوشت لایا هَذَا فَقَالُوا أَهْدَى رَسُولُ الله صَلَّى الله گیا میں نے کہا یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ الْبَقَرَ فَلَمَّا كَانَتْ رسول الله ﷺ نے اپنی بیویوں کی طرف سے لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ يَرْجِعُ گائے کی قربانی دی ہے۔پھر جب حصبہ 2 کی رات النَّاسُ بِحَجَةٍ وَعُمْرَةٍ وَأَرْجِعُ بِحَجَةٍ قَالَتْ آئی تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! لوگ تو حج اور عمرہ فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرِ فَأَرْدَفَنِي (دونوں) کر کے لوٹیں گے اور میں صرف حج کر کے عَلَى جَمَلهِ قَالَتْ فَإِنِّي لَأَذْكُرُ وَأَنَا جَارِيَةٌ لوٹوں گی۔وہ بیان فرماتی ہیں آپ نے عبد الرحمان حَدِيثَةُ السِّنِّ أَنْعَسُ فَيُصِيبُ وَجْهِي بن ابو بکر" کو ارشاد فرمایا انہوں نے مجھے اپنے اونٹ پر مُؤْخِرَةَ الرَّحْلِ حَتَّى جِئْنَا إِلَى التَّنْعِيمِ پیچھے بٹھا لیا۔وہ کہتی ہیں مجھے یاد ہے میں نوجوان لڑکی فَأَهْلَلْتُ مِنْهَا بِعُمْرَةِ جَزَاءً بِعُمْرَةِ النَّاسِ تھی۔مجھے اونگھ آجاتی تھی اور میرا چہرہ کجاوہ کی پچھلی ا الَّتِي اعْتَمَرُوا {121) و حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ لکڑی سے جا لگتا تھا۔یہاں تک کہ ہم تنعیم پہنچ گئے 1 طواف افاضہ : وہ طواف جو وقوف عرفہ کے بعد 10 ذوالحجہ یا اس کے بعد کی تاریخوں میں کیا جاتا ہے۔2 ايام التشریق کے بعد 14 ذی الحجہ کو مٹی سے مکہ کی طرف آتے ہوئے حقب مقام پر رات کا کچھ حصہ قیام کرنا۔