صحیح مسلم (جلد پنجم)

Page 124 of 188

صحیح مسلم (جلد پنجم) — Page 124

مسلم جلد پنجم 124 كتاب الصيام اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَصُومُ أَسْرُدُ وَأَصَلِّي سے ملا تو آپ نے فرمایا کیا مجھے خبر نہیں دی گئی کہ تم اللَّيْلَ فَإِمَّا أَرْسَلَ إِلَيَّ وَإِمَّا لَقِيتُهُ فَقَالَ أَلَمْ روزے رکھتے ہو اور روزہ چھوڑتے نہیں اور رات بھر أَخبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ وَلَا تُفْطَرُ وَتُصَلِّي اللَّيْلَ نماز پڑھتے ہو تم ایسا نہ کیا کرو۔یقینا تمہاری آنکھ کا فَلَا تَفْعَلْ فَإِنْ لَعَيْنكَ حَظًّا وَلَنَفْسِكَ بھی حق ہے اور تمہارے نفس کا بھی حق ہے اور وَلَأَهْلِكَ حَظًّا فَهُمْ وَأَفْطِرْ وَصَلِّ وَنَمْ تمہارے گھر والوں کا بھی حق ہے۔پس روزہ بھی رکھو وَصُمْ مِنْ كُلِّ عَشْرَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ اور ناغہ بھی کرو، اور نماز پڑھو اور نیند بھی لو، اور ہر دس تسْعَة قَالَ إِنِّي أَجِدُنِي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ يَا دنوں میں ایک دن روزہ رکھ لیا کرو تو تمہارے لئے ، قَالَ فَصُمْ صِيَامَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامِ قَالَ وَكَيْفَ كَانَ دَاوُدُ يَصُومُ يَا نَبِيَّ الله نو دنوں کا بھی اجر ہو گا۔انہوں نے کہا اے اللہ کے قَالَ كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا وَلَا يَفرَّ نبی ! میں اس سے زیادہ کی طاقت پاتا ہوں۔إِذَا لَاقَى قَالَ مَنْ لِي بِهَذِهِ يَا نَبِيَّ اللهِ قَالَ آپ نے فرمایا پھر داؤد علیہ السلام جیسے روزے رکھو۔عَطَاء فَلَا أَدْرِي كَيْفَ ذَكَرَ صِيَامَ الْأَبَدِ انہوں نے کہا اے اللہ کے نبی ! داؤد کیسے روزہ رکھتے فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا صَامَ تھے؟ آپ نے فرمایاوہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور مَنْ صَامَ الْأَبَدَ لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ لَا ایک دن ناغہ کرتے تھے اور جب ( دشمن کا سامنا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ کرتے تو بھاگتے نہیں تھے۔انہوں نے کہا اے اللہ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ کے نبی! میری یہ قسمت کہاں؟ ( راوی ) عطاء کہتے بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ إِنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ ہیں میں نہیں جانتا انہوں نے عمر بھر کے روزوں کا کیسے ذکر کیا تو نبی ﷺ نے فرمایا جس نے عمر بھر روزے رکھے اس نے روزہ نہیں رکھا۔جس نے عمر بھر روزے رکھے اس نے روزہ نہیں رکھا۔جس نے عمر بھر روزے رکھے اس نے روزہ نہیں رکھا۔جريج الشَّاعِرَ أَخْبَرَهُ قَالَ مُسْلِمٍ أَبُو الْعَبَّاسِ السَّائِبُ بْنُ فَرُّوحَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ ثِقَةٌ عدل 2735,27341]