صحیح مسلم (جلد چہارم) — Page 181
صحیح مسلم جلد چهارم 181 كتاب الزكاة أَصْحَاب النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا زائد اموال میں سے صدقہ کرتے ہیں۔آپ نے للنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللهِ فرمایا کیا اللہ نے تمہارے لئے وہ چیز نہیں بنائی جو تم ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالْأُجُورِ يُصَلُّونَ كَمَا صدقہ کر د یقیناً ہر تسبیح صدقہ ہے۔ہر تکبیر صدقہ ہے تُصَلِّي وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ وَيَتَصَدَّقُونَ اور ہر حمید صدقہ ہے اور ہر تہلیل * صدقہ ہے اور نیکی کا بفُضُولِ أَمْوَالِهِمْ قَالَ أَوَلَيْسَ قَدْ جَعَلَ اللهُ حکم دینا صدقہ ہے اور بدی سے روکنا صدقہ ہے اور لَكُمْ مَا تَصَّدَّقُونَ إِنَّ بِكُلِّ تَسْبيحَة صَدَقَةٌ تمہارا اپنی بیوی سے تعلق قائم کرنا بھی صدقہ ہے تو وَكُلِّ تَكْبِيرَة صَدَقَةٌ وَكُلّ تَحْمِيدَة صَدَقَةٌ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم میں سے اگر کوئی وَكُلّ تَهْلِيلَةٌ صَدَقَةً وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ اپنی خواہش پوری کرتا ہے تو اس میں بھی اس کے لئے صَدَقَةٌ وَنَهْي عَنْ مُنْكَرِ صَدَقَةٌ وَفِي بُضع اجر ہے؟ آپ نے فرمایا تمہارا کیا خیال ہے اگر اپنی أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَاتِي خواہش حرام جگہ پوری کرتا تو کیا اس پر بوجھ نہ ہوتا ؟ أَحَدُنَا شَهْوَتَهُ وَيَكُونُ لَهُ فِيهَا أَجْرٌ قَالَ اسی طرح جب وہ اسے جائز طریقہ سے کرتا ہے تو اس أَرَأَيْتُمْ لَوْ وَضَعَهَا فِي حَرَامٍ أَكَانَ عَلَيْهِ فِيهَا کے لئے اجر ہے۔وِزْرٌ فَكَذَلِكَ إِذَا وَضَعَهَا فِي الْحَلَالِ كَانَ لَهُ أَجْرًا [2329] 1661{54} حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٌّ :1661: عبد اللہ بن فروخ نے بتایا کہ انہوں نے الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ حضرت عائشہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ علے حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ عَنْ زَيْدِ أَنَّهُ نے فرمایا کہ آدم کی اولاد میں سے ہر انسان کی تخلیق سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ يَقُولُ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ میں تین سو ساٹھ جوڑ ہیں پس جس شخص نے اللہ اکبر کہا فَرُّوحَ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اور الحمد للہ کہا اور لَا إِلَهَ إِلَّا الله کہا اور سبحان اللہ کہا الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّهُ خُلِقَ اور اللہ سے مغفرت چاہی اور لوگوں کے راستہ سے كُلُّ إِنْسَانِ مِنْ بَنِي آدَمَ عَلَى سِتِّينَ وَثَلَاثِ پتھر ہٹایا ، کانٹا یا ڈی لوگوں کے راستہ سے ہٹائی یا مِائَةِ مَفْصِلِ فَمَنْ كَبَّرَ اللَّهَ وَحَمِدَ الله نیکی کا حکم و یا یا برائی سے روکا۔ان 360 جوڑوں کی تبليل : لَا إِلَهَ إِلَّا الله کہنے کو تبلیل کہتے ہیں