صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 92
نِصْفِ اللَّيْلِ وَوَقْتُ الْفَجْرِ مَا لَمْ تَطْلُع الشَّمْسُ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْب حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرِ الْعَقَدِيُّ قَالَ حِ و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ 92 كتاب المساجد و مواضع الصلاة أبي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ كلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حديثهما قَالَ شُعْبَةُ رَفَعَهُ مَرَّةً وَلَمْ يَرْفَعُهُ مرتين [1387,1386] 958{173) وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ :958 حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ الدَّوْرَقِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ رسول الله ﷺ نے فرمایا کہ ظہر کا وقت جب سورج حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ کا زوال ہو اور ( پھر ) آدمی کا سایہ اس کی قامت عَمْرُو أَنَّ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کے برابر ہو جائے اور عصر کا وقت نہ آجائے ، اور عصر وَسَلَّمَ قَالَ وَقْتُ الظُّهْرِ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ کا وقت دھوپ کے زرد ہو جانے تک ہے اور نماز وَكَانَ ظَلُّ الرَّجُلِ كَطُولِهِ مَا لَمْ يَحْضُرِ مغرب کا وقت شفق کے غائب ہونے تک ہے اور الْعَصْرُ وَوَقْتُ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ نماز عشاء کا وقت درمیانی رات کے نصف رات تک الشَّمْسُ وَوَقْتُ صَلَاةِ الْمَغْرِب مَا لَمْ يَعْب ہے اور صبح کی نماز کا وقت فجر کے طلوع سے لے الشَّفَقُ وَوَقْتُ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ کر طلوع آفتاب تک ہے۔پس جب سورج طلوع اللَّيْلِ الْأَوْسَطِ وَوَقْتُ صَلَاةِ الصُّبْحِ مِن ہونے لگے تو نماز سے رک جاؤ کیونکہ وہ شیطان کے طُلُوعِ الْفَجْرِ مَا لَمْ تَطْلُعَ الشَّمْسَ فَإِذَا دونوں سینگوں کے درمیان سے نکلتا ہے۔طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَأَمْسِكَ عَنِ الصَّلَاةِ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ [1388] : طلوع آفتاب کا وقت بالعموم مشرکین کی عبادت کا وقت ہے۔