صحیح مسلم (جلد دوم) — Page 1
1 كتاب الطهاره كِتَابُ الطَّهَارَة کتاب: صفائی اور پاکیزگی کے بارہ میں [1]1: بَابِ فَضْلِ الْوُضُوءِ باب : وضوء کی فضیلت 65 320 {1} حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا :320 حضرت ابو مالک اشعری کہتے ہیں کہ رسول اللہ حَبَّانُ بْنُ هِلَال حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا يَحْيَى أَنْ ﷺ نے فرمایا صفائی ( و پاکیزگی ) نصف ایمان ہے زَيْدًا حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا سَلَّامٍ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي اور ” الْحَمْدُ لِلَّهِ “ تر از وکو بھر دے گا اور مَالِكَ الْأَشْعَرِي قَالَ قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى سُبْحَانَ اللهِ “ اور الْحَمدُ لِلَّهِ " آسمانوں و اللَّهِ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطُّهُورُ شَطْرُ الْإِيمان زمین کے درمیان کو بھر دیں گے۔نماز نور ہے اور وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَأُ الْمِيزَانَ وَسُبْحَانَ الله صدقه صحت ایمان کی دلیل ہے اور صبر روشنی ہے وَالْحَمْدُ للهِ تَمْلَانَ أَوْ تَمْلَأُ مَا بَيْنَ اور قرآن تیرے لئے یا تیرے خلاف حجت ہے۔ہر السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالصَّلَاةُ نُورٌ آدمی صبح اٹھتا ہے تو اپنے نفس کا سودا کرتا ہے پھر یا تو وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانَ وَالصَّبْرُ ضِيَاء وَالْقُرْآنُ وہ اسے آزاد کرتا ہے یا ہلاک کر دیتا ہے۔حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ كُلُّ النَّاسِ يَعْدُو فَبَايِعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتَقُهَا أَوْ مُوبَقُهَا [534] [2]2: بَاب وُجُوبِ الطَّهَارَةِ للصَّلاة باب: نماز کیلئے وضوء کا واجب ہونا 321 {۔۔۔} حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَقُتَيْبَةُ :321 مصعب بن سعد بیان کرتے ہیں حضرت بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو كَامِلِ الْجَحْدَرِيُّ وَاللَّفْظُ عبد الله بن عمر، ابن عامر کے پاس جبکہ وہ مریض تھے