صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 74
صحیح مسلم جلد اول 74 کتاب الایمان [34]33: بَاب بَيَانِ نُقْصَانِ الْإِيمَانِ بِنَقْصِ الطَّاعَاتِ وَبَيَانِ إِطْلَاقِ لَفْظ الْكُفْرِ عَلَى غَيْرِ الْكُفْرِ بِاللَّهِ كَكُفْرِ النِّعْمَةِ وَالْحُقُوقِ اطاعت کی کمی کی وجہ سے ایمان کی کمی کا بیان اور اللہ کے کفر کے علاوہ لفظ کفر کا استعمال مثلا نعمت کی ناشکری اور حقوق کے انکار پر 106 [79] حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ :106: حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ الْمُهَاجِرِ الْمَصْرِيُّ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنِ ابْنِ رسول اللہ اللہ نے فرمایا کہ اے عورتوں کے گروہ ! تم الْهَادِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صدقہ کرو اور کثرت سے استغفار کرو۔آگ والوں عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ میں بہت زیادہ تعداد میں میں نے تمہیں دیکھا ہے۔أَنَّهُ قَالَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ وَأَكْثَرْنَ اس پر ان میں سے کسی سمجھ دار عورت نے عرض پرا الاسْتِغْفَارَ فَإِنِّي رَأَيْتَكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ کیا: یا رسول اللہ ! ہمارے اکثر آگ والے ہونے کی فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ جَزَلَةٌ وَمَا لَنَا يَا رَسُولَ کیا وجہ ہے؟ آپ نے فرمایا: تم لعن طعن بہت کرتی ہو اللَّهِ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ قَالَ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ اور اپنے خاوندوں کی ناشکری کرتی ہو اور ناقص عقل وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ وَمَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ اور ناقص دین رکھتے ہوئے عقل مند پر غالب آتے عَقْلٍ وَدِينِ أَغْلَبَ لِذِي لُبِّ مِنْكُنَّ قَالَتْ يَا مَیں نے تم سے زیادہ کسی کو نہیں دیکھا۔اس نے عرض رَسُولَ الله وَمَا نُقْصَانُ الْعَقْل وَالدِّين قَالَ کیا : یا رسول اللہ ! عقل اور دین کے نقصان سے کیا أَمَّا نُقْصَانُ الْعَقْلِ فَشَهَادَةُ امْرَأَتَيْنِ تَعْدِلُ مُراد ہے؟ آپ نے فرمایا: جہاں تک عقل کا تعلق ہے شَهَادَةَ رَجُلٍ فَهَذَا نُقْصَانُ الْعَقْلِ وَتَمْكُثُ وہ یہ ہے کہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کی گواہی کے اللَّيَالِي مَا تُصَلِّي وَتُفْطِرُ فِي رَمَضَانَ فَهَذَا برابر ہے اور یہ عقل کا نقصان ہے اور کئی راتیں نُقْصَانُ الدِّينِ و حَدَّثَنِيهِ أَبو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا (ایک عورت ) اس طرح رہتی ہے کہ نماز نہیں پڑھتی ابْنُ وَهْبٍ عَنْ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ عَنِ ابْنِ الْهَادِ اور رمضان کے روزے نہیں رکھتی۔پس یہ دین کا بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ {80} وحَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ رَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَقَ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نقصان ہے۔