صحیح مسلم (جلد اوّل) — Page 236
صحیح مسلم جلد اول 236 كتاب الايمان 288 (199} حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ :288 حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ علی وَأَبُو كُرَيْب وَاللَّفْظُ لأبي كُرَيْب قَالَ نے فرمایا ہر نبی کی ایک ( خاص ) مقبول دعا ہوتی حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي ہے۔ہر نبی نے پہلے ہی وہ دعا مانگ لی مگر میں نے صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ اپنی دعا قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةً لئے محفوظ کر لی۔پس یہ (دعا) ان شاء اللہ ہر اس شخص مُسْتَجَابَةٌ فَتَعَجَّلَ كُلُّ نَبِيٍّ دَعْوَتَهُ وَإِنِّي کو پہنچے گی جو میری امت میں سے مرے اور اللہ کے اختباتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَة ساتھ کسی کو شریک نہ بناتا ہو۔فَهِيَ نَائِلَةٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشرك بالله شَيْئًا 289 {۔۔حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدِ حَدَّثَنَا 289 حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں رسول اللہ علیہ نے جَرِيرٌ عَنْ عُمَارَةَ وَهُوَ ابْنُ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي فرمایا ہر نبی کی ایک (خاص) مقبول دعا ہوتی ہے وہ یہ زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ دعا کرتا ہے اور اسے قبولیت دی جاتی ہے اور اسے وہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ عطاء کیا جاتا ہے اور میں نے اپنی وہ دعا قیامت کے مُسْتَجَابَةٌ يَدْعُو بِهَا فَيُسْتَجَابُ لَهُ فَيُوْنَاهَا دن اپنی امت کی شفاعت کے لئے محفوظ کر رکھی وَإِنِّي احْتَبَات دَعْوَتِي شَفَاعَةٌ لِأُمَّتِي يَوْمَ ہے۔الْقِيَامَة 290 {۔۔۔} حَدَّثَنَا عُبَيْدُ الله بْنُ مُعَاذ :290 حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے وہ ہ کہتے الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدُ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر نبی کی ایک وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ (خاص) دعا ہے جو اس نے اپنی امت کے لئے کی قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اور اسے قبول کر لیا گیا۔میں نے ارادہ کیا ہے کہ اگر لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ دَعَا بِهَا فِي أُمَّتِهِ فَاسْتَجِيبَ الله چاہے میں اپنی اس دعا کو اپنی امت کے لئے بطور لَهُ وَإِنِّي أُرِيدُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ أَوَخَرَ دَعْوَتِي شفاعت قیامت کے دن تک مؤخر کر دوں۔شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ