سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ دوم — Page 153
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ دوم 121 ہر کام کے اعلیٰ نتائج پیدا کرنے کیلئے مستقل مزاجی شرط ہے گزشتہ خطبہ میں میں نے نمازوں کی اہمیت اور ان کی ادائیگی کی طرف توجہ دلائی تھی۔ کئی لوگوں کے مجھے ذاتی خط اس طرف توجہ دینے کے لئے آئے اور اپنی سستیوں پر شرمندگی کا اظہار کیا۔ کئی جگہ سے جماعتی نظام اور ذیلی تنظیموں سے خط آئے کہ واقعی اس معاملے میں سستی ہے۔ آئندہ سے اس طرف توجہ کا مضبوط پروگرام بنا رہے ہیں اور یہ بھی کہ انشاء اللہ آئندہ بھر پور کوشش کریں گے کہ ستیاں دور ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو اس کی توفیق دے اور ہماری مساجد حقیقت میں آبادی کے بھر پور نظارے پیش کرنے والی ہوں۔ لیکن انتظامیہ کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہر کام کے اعلیٰ نتائج پیدا کرنے کے لئے مستقل مزاجی شرط ہے۔ شروع میں تو ہم میں سے بہت سے ایسے ہیں جو بڑے جوش سے کام شروع کرتے ہیں لیکن پھر کچھ عرصے بعد سستی پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے۔ یہ انسانی فطرت بھی ہے۔ افراد میں سستی پیدا ہونی اتنے خطرناک نتائج پیدا نہیں کرتی گو کہ یہ بھی بہت قابل فکر بات ہے لیکن نظام میں سستی پیدا ہونا تو انتہائی خطرناک ہے۔ اگر افراد کو توجہ دلانے والا نظام ہی سست ہو جائے یا اپنے کام میں عدم دلچسپی کا اظہار کرنے لگ جائے تو پھر افراد کی اصلاح بھی مشکل ہو جاتی ہے ، اور ایک فطری تقاضے کے تحت اُن میں جو سستی پیدا ہوتی ہے اس کی اصلاح ہونا مشکل ہو جاتا ہے۔ ہماری عبادتوں کی ترقی ہی ہمیں کامیابیاں دلانے والی ہے پس ذیلی تنظیمیں بھی اور جماعتی نظام بھی اپنے کام اور خاص طور پر وہ کام جس کو اللہ تعالیٰ نے ہمارا مقصد پیدائش قرار دیا ہے اس میں ایسی منصوبہ بندی کریں اور ایسا پروگرام بنائیں کہ وقت کے ساتھ سستی اور کمزوری کی بجائے ہر دن ترقی کی طرف لے جانے والا ہو۔ ہماری عبادتوں کی ترقی ہی ہمیں کامیابیاں دلانے والی ہے۔ پس یہ بہت اہم چیز ہے۔ تمام نظام کو اس بارے میں بہت سنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے۔ لجنہ اماء اللہ کو بھی اس بارے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔