سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 95
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 75 ایسے جو بدعات پھیلانے والے ہیں اس کا سد باب کرنے کی کوشش کریں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ: ” پیر بنیں۔ پیر پرست نہ بنیں “۔ یہاں یہ بھی بتادوں کہ بعض رپورٹیں ایسی آتی ہیں ، اطلاعیں ملتی رہتی ہیں، پاکستان میں بھی اور دوسری جگہوں میں بھی، بعض جگہ ربوہ میں بھی کہ بعض احمد یوں نے اپنے دعا گو بزرگ بنائے ہوئے ہیں اور وہ بزرگ بھی میرے نزدیک نام نہاد ہیں جو پیسے لے کر یا ویسے تعویذ وغیرہ دیتے ہیں یا دعا کرتے ہیں کہ 20 دن کی دوائی لے جاؤ، 20 دن کا پانی لے جاؤ یا تعویذ لے جاؤ۔ یہ سب فضولیات اور لغویات ہیں۔ میرے نزدیک تو وہ احمدی نہیں ہیں جو اس طرح تعویذ وغیرہ کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے دعا کروانے والا بھی یہ سمجھتا ہے کہ میں جو مرضی کرتا رہوں ، لوگوں کے حق مار تار ہوں، میں نے اپنے بزرگ سے دعا کر والی ہے اس لئے بخشا گیا، یا میرے کام ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ تو کہتا ہے کہ مومن کہلانا ہے تو میری عبادت کرو، اور تم کہتے ہو کہ پیر صاحب کی دعائیں ہمارے لئے کافی ہیں۔ یہ سب شیطانی خیالات ہیں ان سے بچیں۔ عورتوں میں خاص طور پر یہ بیماری زیادہ ہوتی ہے، جہاں جہاں بھی ہیں ہمارے ایشین (Asian) ملکوں میں اس طرح کا زیادہ ہوتا ہے یا جہاں جہاں بھی Asians اکٹھے ہوئے ہوتے ہیں وہاں بھی بعض دفعہ ہو جاتا ہے۔ اس لئے ذیلی تنظیمیں اس بات کا جائزہ لیں اور ایسے جو بدعات پھیلانے والے ہیں اس کا سد باب کرنے کی کوشش کریں۔ اگر چند ایک بھی ایسی سوچ والے لوگ ہیں تو پھر اپنے ماحول پر اثر ڈالتے رہیں گے۔ نہ صرف ذیلی تنظیمیں بلکہ جماعتی نظام بھی جائزہ لے اور جیسا کہ میں نے کہا کہ چند ایک بھی اگر لوگ ہوں گے تو اپنا اثر ڈالتے رہیں گے اور شیطان تو حملے کی تاک میں رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بات ماننے والے بننے کی بجائے اس طرح بعض شرک میں پڑنے والے ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ سب کو اس سے محفوظ رکھے۔ لیکن میں پھر کہتا ہوں کہ یہ بیماری چاہے چند ایک میں ہی ہو ، جماعت کے اندر برداشت نہیں کی جاسکتی۔ اللہ تعالیٰ تو یہ دعا سکھاتا ہے کہ اپنے اپنے دائرے میں ہر ایک یہ دعا کرے کہ مجھے متقیوں کا امام بنا۔ خلیفہ وقت بھی یہ دعا کرتا ہے کہ