سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 79
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 59 پھر وہ شخص جو نہ قرآن پڑھتا ہے اور نہ اس پر عمل کرتا ہے، اس میں تو فرمایا کہ ایسی منافقت بھر گئی ہے کہ جس میں نہ خوشبو ہے اور نہ مزا ہے۔ نہ وہ خود فیض پا سکتا ہے اور نہ ہی کوئی دوسرا اس سے فیض پا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو ایسا بننے سے محفوظ رکھے۔ ایک روایت میں آتا ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں میں سے کچھ لوگ اہل اللہ ہوتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں اس پر آپ سے دریافت کیا گیا یارسول اللہ ! خدا کے اہل کون ہوتے ہیں۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن والے اہل اللہ اور اللہ کے خاص بندے ہوتے ہیں۔ (مسند احمد بن حنبل جلد 3 صفحه 128 مطبوعہ بیروت) اہل اللہ بننے کے لئے جیسا کہ پہلی حدیث میں بیان فرمایا گیا ہے۔ قرآن کریم کو پڑھنے والے بھی بنیں اور اس پر عمل کرنے والے بھی بنیں۔ ساری کامیابیوں کی کلید یہی قرآن شریف ہے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”کامیاب وہی لوگ ہوں گے جو قرآن کریم کے ماتحت چلتے ہیں۔ قرآن کو چھوڑ کر کامیابی ایک ناممکن اور محال امر ہے۔“ (الحکم 31 اکتوبر 1901ء) پس ہر احمدی کو اپنی کامیابیوں کو حاصل کرنے کے لئے یہ نسخہ آزمانا چاہیے۔ دین بھی سنور جائے گا اور دنیاوی مسائل بھی حل ہو جائیں گے ۔ آج دیکھ لیں مسلمانوں میں جو لڑائی جھگڑے اور دنیا کے سامنے ذلت کی حالت ہے وہ اسی لئے ہے کہ نہ قرآن پڑھتے ہیں اور نہ اس پر عمل کرتے ہیں۔ جو پڑھتے ہیں وہ عمل نہیں کرتے، سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے تو ظاہر ہے پھر قرآن کو چھوڑنے کا یہی نتیجہ نکلنا تھا جو نکل رہا ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” یاد رکھو قرآن شریف حقیقی برکات کا سر چشمہ اور نجات کا سچا ذریعہ ہے۔ یہ ان لوگوں کی اپنی غلطی ہے جو قرآن شریف پر عمل نہیں کرتے۔ عمل نہ کرنے والوں میں ایک گروہ تو وہ ہے جس کو اس پر اعتقاد ہی نہیں