سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 67 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 67

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 47 نظام جماعت کے ساتھ ہمیشہ چمٹے رہو ، نظام کی پوری پابندی کرو وو پہلی بات جو اس میں بیان کی گئی ہے ، اس کی میں وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ جو کام تم اللہ تعالیٰ کی خاطر کر رہے ہو اس میں ہمیشہ خلوص نیت ہونا چاہیے۔ جماعتی عہدے جو تمہیں دئے جاتے ہیں انہیں نیک نیتی کے ساتھ بجالاؤ۔ صرف عہدے رکھنے کی خواہش نہ رکھو بلکہ اس خدمت کا جو حق ہے وہ ادا کرو۔ ایک تو خود اپنی پوری استعدادوں کے ساتھ اس خدمت کو سر انجام دو۔ دوسرے اس عہدے کا صحیح استعمال بھی کرو۔ یہ نہ ہو کہ تمہارے عزیزوں اور رشتہ داروں کے لئے اور اصول ہوں، ان سے نرمی کا سلوک ہو اور غیروں سے مختلف سلوک ہو، ان پر تمام قواعد لاگو ہو رہے ہوں۔ ایسا کرنا بھی خیانت ہے۔ پھر اس عہدے کی وجہ سے تم یا تمہارے عزیز کوئی ناجائز فائدہ اٹھانے والے نہ ہوں۔ مثلاً یہ بھی ہوتا ہے کہ چندوں کی رقوم اکٹھی کرتے ہیں۔ تو بہتر یہی ہے کہ ساتھ کے ساتھ جماعت کے اکاؤنٹ میں بھجوائی جاتی رہیں۔ یہ نہیں کہ ایک لمبا عرصہ رقوم اپنے اکاؤنٹ میں رکھ کر فائدہ اٹھاتے رہے۔ اگر امیر نے یا مرکز نے نہیں پوچھا تو اس وقت تک فائدہ اٹھاتے رہے۔ یہ بالکل غلط طریقہ ہے۔ اور اگر کبھی مرکز پوچھ لے تو کہہ دیا کہ ہم نے یہ رقم ادا کرنی تھی مگر بہانے بازی کی کہ یہ ہو گیا اس لئے ادا نہیں کر سکے۔ تو غلط بیانی اور خیانت دونوں کے مرتکب ہو رہے ہوتے ہیں۔ شیطان چونکہ انسان کے ساتھ لگا ہوا ہے اس لئے ایسے مواقع پیدا ہی نہ ہونے چاہئیں اور ان سے بچنا چاہیے۔ پھر یہ ہے کہ اپنے بھائیوں کے کام آؤ، ان کے حقوق ادا کرو۔ پھر یہ بھی یاد رکھو کہ نظام جماعت کے ساتھ ہمیشہ چمٹے رہو ، نظام کی پوری پابندی کرو۔ کسی بات پر اعتراض پیدا ہوتا ہے تو پھر آہستہ آہستہ وہ اعتراض انسان کو بہت دور تک لے جاتا ہے۔ اور پھر آہستہ آہستہ عہدے داروں سے بڑھ کر نظام تک اور پھر نظام سے بڑھ کر خلافت تک یہ اعتراض چلے جاتے ہیں۔ اس لئے اگر یہ کرو گے تو یہ بھی خیانت ہے۔“ (خطبه جمعه فرموده 6 فروری 2004ء بحوالہ خطبات مسرور جلد 2 صفحہ 109-110)