سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 62 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 62

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 42 پھر حضرت مصلح موعودؓ نے کارکنان کو ہدایات دیتے ہوئے ایک جگہ فرمایا کہ : کارکنوں کو چاہیے کہ تندہی سے کام کریں۔ یہ خواہش کہ ہمارا نام و نمود ہو ایسا خیال ہے جو خراب کرتا ہے۔ اس خیال کے ماتحت بہت لوگ خراب ہو گئے ہیں ، ہوتے ہیں ہوتے رہیں گے۔ تم اللہ سے ڈرو اور اسی سے خوف کرو اور اس بات کو مد نظر رکھو کہ اس کا کام کر کے اس سے انعام کے طالب ہو ۔۔۔ اور لوگوں سے مدح اور تعریف نہ چاہو ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے کاموں میں للہیت پیدا کرے۔ اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے اور مجھ پر بھی رحم کرے۔ آمین “ (خطبہ فرمودہ 22 دسمبر 1922ء از خطبات محمود جلد 7 صفحه (433) خلاصہ ہدایات بابت عہدیداران ۔۔۔ پھر آخر میں خلاصہ دوبارہ بیان کر دیتا ہوں کہ جو باتیں میں نے کہی ہیں عہدیداران کے لئے اور یہ خلفائے سلسلہ کہتے چلے آئے ہیں پہلے بھی لیکن ایک عرصہ گزرنے کے بعد بعض باتیں یاد نہیں رہتیں۔ جو نئے آنے والے عہدیداران ہوتے ہیں جو نہیں سمجھ رہے ہوتے صحیح طرح اس لئے بار بار یاد دہانی کروانی پڑتی ہے۔ تو خلاصہ یہ باتیں ہیں: (1) عہدیداران پر خود بھی لازم ہے کہ اطاعت کا اعلیٰ نمونہ دکھائیں اور اپنے سے بالا افسر یا عہدیدار کی مکمل اطاعت اور عزت کریں۔ اگر یہ کریں گے تو آپ کے نیچے جو لوگ ہیں، افراد جماعت ہوں یا کارکنان، آپ کی مکمل اطاعت اور عزت کریں گے۔ (2) یہ ذہن میں رکھیں کہ لوگوں سے نرمی سے پیش آنا ہے۔ ان کے دل جیتے ہیں، ان کی خوشی غمی میں ان کے کام آنا ہے۔ اگر آپ یہ فطری تقاضے پورے نہیں کرتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے عہدیدار کے دل میں تکبر پایا جاتا ہے۔ (3) امراء اور عہدیداران یا مرکزی کارکنان یہ دعا کریں کہ ان کے ماتحت یا جن کا ان کو نگران بنایا گیا ہے ، شریف النفس ہوں، جماعت کی اطاعت کی روح ان میں ہو اور نظام جماعت کا ، النہ احترام ان میں ہو۔ (4) کبھی کسی فرد جماعت سے کسی معاملہ میں امتیازی سلوک نہ کریں اور یہ بھی یاد رکھیں