سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 60
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 40 عہدیداران ۔۔۔ کو تو انتہائی وسعت حوصلہ کا مظاہرہ کرنا چاہیے دوسرے یہ ذمہ داری ہے عہدیداران کی عام لوگوں سے ہٹ کر، اپنے دوسرے برابر کے عہدیداروں یا ما تحت عہدیداران یا کارکنان کا احترام ہے۔ یہ کوئی دنیاوی عہدہ نہیں ہے جس طرح میں پہلے بھی کہہ آیا ہوں کہ جو آپ کو مل گیا ہے اور کوئی سمجھ بیٹھے کہ اب سب طاقتوں کا میں مالک بن گیا ہوں۔ یہاں بھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے امیر اپنی عاملہ کا احترام کریں، ان کی رائے کو وقعت دیں، اس پر غور کریں۔ اسی طرح اگر کوئی ماتحت بھی رائے دیتا ہے ؟ تو اس کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھیں، کم نظر سے نہ دیکھیں۔ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہے کہ مشورہ کریں تو ہم، آپ تو بہت معمولی چیز ہیں۔ تو کسی کی رائے کو کبھی بھی تکبر کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ اپنا ایک وقار عہدیدار کا ہونا چاہیے اور یہ نہیں کہ غصے میں مغضوب الغضب ہو کر ایک تو رائے کو رد کر دیا اور مسجد میں یا میٹنگ میں تو تکار بھی شروع ہو جائے۔ یا گفتگو ایسے لہجہ میں کی جائے جس سے کسی دوسرے عہدیدار کا یا کسی دوسرے شخص کے بارہ میں جس سے استخفاف کا پہلو نکلتا ہو ، کم نظر سے دیکھنے کا پہلو نکلتا ہو ۔ تو ہمارے عہدیداران اور کارکنان کو تو انتہائی وسعت حوصلہ کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ کھلے دل سے تنقید بھی سننی چاہیے، برداشت بھی کرنی چاہیے۔ اور پھر ادب کے دائرے میں رہ کر ہر شخص کی عزت نفس ہوتی ہے اس کا خیال رکھ کر دلیل سے جواب دینا چاہیے۔ یہ نہیں کہ میں نے یہ کہہ دیا ہے اس پر عمل نہیں ہو رہا تو تم یہ ہو ، تم وہ ہو ، یہ بڑا غلط طریق ہے۔ عہدیدار کا مقام جماعت میں عہدیدار کا ہے خواہ وہ چھوٹا عہدیدار ہے یا بڑا عہدیدار ہے۔ پھر قطع نظر اس کے کہ کسی کی خدمت کو لمبا عرصہ گزر گیا ہے یا کسی کی خدمت کو تھوڑا عرصہ گزرا ہے۔ اگر کم عمر والے سے یا عہدے میں اپنے سے کم درجہ والے سے بھی ایسے رنگ میں کوئی گفتگو کرتا ہے جس سے سبکی کا پہلو نکلتا ہو تو گو دوسرا شخص اپنے وسعت حوصلہ کی وجہ سے، یعنی جس سے تلخ کلامی کی گئی ہے وہ اپنے وسعت حوصلہ کی وجہ سے ، اطاعت کے جذبہ سے برداشت بھی کرلے ایسی بات لیکن اگر ایسے عہدیدار کا معاملہ جو دوسرے عہدیداران یا کار کنان کا احترام نہیں کرتے میرے سامنے آیا تو قطع نظر اس کے کہ کتنا سینئر (senior) ہے اس کے