سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 55 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 55

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 35 حرکت کی ہو اس لئے اس کو سزا دے دو یا سزا کی سفارش کر دو۔ نہیں، بلکہ جو معاملہ عاملہ کے سامنے پیش کیا ہے اس کی مکمل تحقیق کریں۔ اگر شک کا فائدہ مل سکتا ہے تو اس کو ملنا چاہیے جس پر الزام لگ رہا ہے۔ اگر وہ شخص مجرم ہے تو شاید اس کو یہ احساس ہو جائے کہ گو میں نے جرم تو کیا ہے لیکن شک کی وجہ سے مجھ سے صرف نظر کیا گیا ہے۔ تو آئندہ اس کی اصلاح بھی ہو سکتی ہے یا کم از کم مجلس عاملہ یا ایسے عہدیدار اس حدیث پر تو عمل کرنے والے ہوں گے جو حضرت عائشہ سے روایت ہے۔ بیان کرتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کو سزا سے بچانے کی حتی الامکان کوشش کرو۔ اگر اس کے بچنے کی کوئی راہ نکل سکتی ہو تو معاملہ رفع دفع کرنے کی سوچو۔ امام کا معاف اور درگزر کرنے میں غلطی کرنا، سزا دینے میں غلطی کرنے سے بہتر ہے۔ (ترمذی ابواب الحدود باب ما جاء في درء الحدود) ہر عہدیدار پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری نبھائے ۔۔۔۔ بحیثیت عہدیدار تم پر بڑی ذمہ داری ہے۔ بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اس لئے صرف یہ نہ سمجھو کہ عہدیدار بن کر ، صرف عاملہ میں بیٹھ کر جو معاملات لڑائی جھگڑے یالین دین کے آتے ہیں ان کو ہی نمٹانا مقصود ہے۔ بلکہ ہر عہدیدار پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری نبھائے۔ ہر سیکرٹری اپنے فرائض کی ادائیگی کا ذمہ دار ہے۔ اب سیکرٹری امور عامہ کا صرف یہ کام ہی نہیں ہے کہ آپس کے فیصلے کروائے جائیں یا غلط حرکات اگر کسی کی دیکھیں تو انہیں دیکھ کر مرکز میں رپورٹ کر دی جائے۔ اس کا یہ کام بھی ہے کہ اپنی جماعت کے ایسے بیکار افراد جن کو روز گار میسر نہیں، خدمت خلق کا بھی کام ہے اور روز گار مہیا کرنے کا بھی کام ہے، اس کے لئے روز گار کی تلاش میں مدد کرے۔ بعض لوگ طبعا کاروباری ذہن کے بھی ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی فہرستیں تیار کریں۔ اگر ایسے افراد میں صلاحیت دیکھیں تو تھوڑی بہت مالی مدد کر کے معمولی کاروبار بھی ان سے شروع کروایا جاسکتا ہے۔ اور اگر ان میں صلاحیت ہو گی تو وہ کاروبار چمک بھی جائے گا اور آہستہ آہستہ بہتر کاروبار بن سکتا ہے۔ میں نے کئی لوگوں کو دیکھا ہے جو پاکستان میں بھی سائیکل پر پھیری لگا کر یا کسی دوکان کے تھڑے پر بیٹھ کے، ٹوکری رکھ کر یا چند