سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 435 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 435

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 415 ہے۔ ہاتھ میں رکھتے ہیں) خاص طور پر گاؤں کے لوگ خبریں یا مختلف پروگرام بڑی دلچسپی سے سنتے ہیں۔ کہتے ہیں عین اُس وقت ریڈیو پر اعلان ہو رہا تھا کہ کسی کا پیسوں سے بھر الفافہ کہیں گر گیا ہے، اگر کسی کو ملے ( یہ نشانیاں بتائیں) تو وہ ریڈیو اسٹیشن آ کر دے دے۔ عثمان صاحب کہتے ہیں کہ میرے دوست میرے پیچھے پڑ گئے کہ اس کو کھولو اور پیسے تقسیم کرتے ہیں۔ تو میں نے اُن سے کہا کہ نہیں، ہر گز نہیں۔ یہ میرے ربّ العزت کا جواب ہے کہ جماعت احمد یہ سچی ہے۔ کیونکہ رات میں نے دعا کی تھی اور خدا نے میری دعا قبول کر کے میرے ایمان کو احمدیت پر مضبوط کیا۔ یہ رقم امانت ہے ، اسے میں واپس لوٹاؤں گا۔ ( پیسے تو ملے لیکن یہ دکھانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے دیئے کہ اب ایمان داری کا بھی آگے امتحان شروع ہوتا ہے)۔ چنانچہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنا سائیکل پکڑا اور کوئی شہر آکر یہ رقم ریڈیو کے ڈائر یکٹر کو لوٹا دی۔ ڈائر یکٹر نے عثمان صاحب سے کہا کہ آپ تھوڑی دیر کے لئے رُکیں، ، وہ وہ بندہ جس کے پیسے ہیں وہ آپ سے ملنا چاہتا ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ لوگ آئے جن کی رقم تھی۔ انہوں نے رقم گنی جو ایک ملین فرانک سے زائد تھی۔ اور وہ پوری تھی۔ اس کے بعد انہوں نے کچھ رقم عثمان صاحب کو بطور انعام کے دینا چاہی جسے عثمان صاحب نے لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ میرا انعام اللہ تعالیٰ نے مجھے دے دیا ہے۔ مجھے ان پیسوں کی ضرورت نہیں۔ اور خدا کے فضل سے اس واقعہ کے بعد اس گاؤں کے جو احباب جماعت ہیں ، ان کے ایمانوں میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ محمد احمد راشد صاحب مبلغ جرمنی لکھتے ہیں کہ ایک جرمن سائمن گلہر (Simon Geelhaar) نامی نوجوان نے بیعت کی۔ یہ اس سے قبل بھی مسلمان تھے۔ ان کی جب خاکسار سے ملاقات ہوئی تو کہنے لگے کہ میں نے جب اسلام قبول کیا تو میرے ذہن میں یہ بات تھی کہ سارے مسلمان ملت واحدہ ہیں لیکن بعد میں مجھے علم ہوا کہ یہاں تو بہت سارے فرقے ہیں۔ اب مجھے کیسے پتہ چلے کہ کون حق پر ہے؟ کہتے ہیں کہ اس پر میں نے عرض کیا کہ اگر آپ صدق دل سے دعا کریں تو اللہ تعالیٰ ضرور آپ کی رہنمائی کرے گا۔ انہوں نے دو تین دن ہی دعا کی تھی کہ ان کو دو مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت نصیب ہوئی۔ وہ کہتے ہیں کہ باوجود اس